انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 543

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر آپ کو یہ حکم تھا کہ آپ انہیں تقسیم کر دیں۔آپ وہ اموال تقسیم فرمارہے تھے کہ :۔رُوِيَ أَنَّ رَجُلًا اَسْوَدَ مُضْطَرِبَ الْخَلْقِ غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ نَاتِيَ الْجَبْهَةِ مُخْدَجَ الْيَدِ شَدِيدَ بَيَاضِ الشَّوبِ يُقَالُ لَهُ عَمْرُو ذُو الْخُوَيْصِرَةِ أَوِ الْخُنَيْصِرَةِ وَقَفَ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمَ بَعْضَ الْغَنَائِمِ فَقَالَ لَقَدْرَأَيْتُ قِسْمَةً مَّا يُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ۵۶ یعنی بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص جو کالے رنگ کا تھا جس کے جسم کی بناوٹ میں بعض نقص تھے جس کی آنکھوں میں گڑھے پڑے ہوئے تھے جس کے ماتھے کی ہڈی باہر نکلی ہوئی تھی اور جس کے ایک ہاتھ میں بھی نقص تھا اور جو عام طور پر سفید لباس پہنے کا عادی تھا۔جسے عمروذ والخویصرہ یا خنیصرہ کہا کرتے تھے رسول کریم ﷺ کی پیٹھ کے پیچھے آ کھڑا ہو گیا۔آپ اُس وقت غنیمت کے اموال مسلمانوں میں تقسیم فرما رہے تھے۔جب آپ مال تقسیم کر چکے تو اُس نے گردن اُٹھائی اور کہا آج میں نے مال کی وہ تقسیم دیکھی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو ہرگز مد نظر نہیں رکھا گیا۔فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّدَ خَدَّاهُ وَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أُعْدِلُ ۵۷ یہ سن کر رسول کریم ﷺ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ آپکے کلے سرخ ہو گئے اور آپ نے فرمایا تیر استیا ناس ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر دنیا میں اور کون عدل کرے گا۔ثُمَّ قَالَ أَيَا مَنْنِي اللهُ عَزَّوَجَلَّ عَلى اَهْلِ الْأَرْضِ وَلَاتَا مَنُوْنَنِي وَقَامَ أبُو بَكْرِو عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَاهُ فَوَجَدَاهُ يُصَلِّي فَلَمْ يَجْسُرَا عَلَى قَتْلِهِ ثُمَّ قَامَ عَلَى كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ لَوْ قُتِلَ هَذَا مَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ فِي دِينِ اللهِ إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ضِتُضِيُّ هَذَا قَوْمٌ يَمُرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمُرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ٥٨ پھر آپ نے فرمایا خدا نے تو ساری دنیا کی حفاظت و امانت کا کام میرے سپر د کر دیا ہے مگر تم مجھے اپنے تھوڑے سے مال میں بھی امین نہیں سمجھتے۔یہ سن کر حضرت ابو بکڑا اور حضرت عمرؓ گکھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس شخص کی تلاش کی تاکہ اسے قتل کر دیں مگر انہوں نے دیکھا کہ وہ بڑی لمبی ۵۸