انوارالعلوم (جلد 14) — Page 534
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر کے خلاف ہو جائیں گی ) پھر فرماتا ہے تو امام ہے مبارک۔بَرُكَةٌ اُس گڑھے کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے۔۳۴ پس مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی برکتیں تیرے ساتھ جمع ہیں اور تیرے بعد اور لوگ تیرے کام کو چلانے والے ہونگے نہ کہ صرف تجھ پر یہ امرختم ہو جائے گا۔جو تیرے اس مقام کا انکار کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہو گا۔میں تیری مددکروں گا اُس وقت بھی کہ تو آسمان میں ہوگا یعنی بعد الموت اور اُس وقت بھی جب تو زمین میں ہوگا یعنی زندگی میں گویا دنیوی امور میں بھی تیری مدد کروں گا اور اُخروی امور میں بھی اور ایسا کیوں نہ ہو کہ تو ابراہیمی مقام پر ہے اور اللہ تعالیٰ متقیوں اور محسنوں کی امداد کرتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَّالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ فرما کر میرے اور مصری صاحب کے باہمی اختلاف کا ایک رنگ میں فیصلہ فرما دیا ہے۔مگر اس لئے کہ اس کے سمجھنے میں سہولت ہو میں ایک مثال دے دیتا ہوں۔غیر احمدیوں سے جب مجھے مذہبی گفتگو کرنے کا موقع ملتا ہے میں ہمیشہ ان سے ایک سوال کیا کرتا ہوں مگر آج تک مجھے اُن میں سے کسی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔میں اُن سے کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بایسته ۳۵ کہ اُس سے زیادہ اور کوئی ظالم نہیں جو خدا تعالیٰ پر افتراء کرے یا اُس کی آیات اور سچی تعلیم کی تکذیب کرے اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ٣٦ کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا تعالیٰ کی مساجد میں لوگوں کو ذکر کرنے سے روکے۔جب ہمارا تمہارا اختلاف ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ أَظْلَمُ نَعُوذُ بِاللهِ) مرزا صاحب تھے کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اظلم تم ہو کیونکہ تم نے ایک بچے کی تکذیب کی تو آؤ ہم قرآن کریم سے ہی پوچھیں کہ ہم دونوں میں سے اظلم کون ہے۔سو جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ جو مساجد میں عبادت کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں وہی اظلم ہیں۔اب دیکھ لو ہم نے اپنی مساجد میں کبھی کسی کو عبادت کرنے سے نہیں روکا بشرطیکہ وہ فتنہ وفساد کی نیت نہ رکھتا ہو مگر تم اپنی مساجد میں احمدیوں کو نماز نہیں پڑھنے دیتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکتے ہو۔پس اس آیت نے ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا اور بتا دیا کہ اظلم ہم نہیں بلکہ تم ہو اور تم ہی ایک بچے مامور کی تکذیب کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن رہے ہو۔اسی طرح اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے دو باتیں بیان فرمائیں ہیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ