انوارالعلوم (جلد 14) — Page 521
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ریزولیوشن اٹریس کی جماعت کا بھی تھا اور اس میں ایک دوست کی تقریر اس طرح درج تھی کہ شیخ صاحب کا ابتلاء بھی ہمارے ایمانوں کو بڑھانے والا ہے کیونکہ خلیفتہ المسیح نے ان کے متعلق یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ مرتد ہو جائیں گے۔میں نے جب یہ تقریر پڑھی تو فوراً اس جماعت کو خط لکھوایا کہ ان صاحب نے میری یہ خواب کہاں سے سنی اس کا جواب وہاں سے یہ آیا کہ یہ ۱۹۱۵ ء میں قادیان میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور انہوں نے خود میرے منہ سے اُس وقت یہ خواب سنی تھی جب کہ اس کا ذکر میں نے بعض دوسرے دوستوں سے کیا۔اب دیکھو کتنے سال کے بعد یہ بات پوری ہوئی ہے۔۱۹۱۵ ء پر بائیس سال گزر چکے ہیں اس عرصہ میں شیخ صاحب میرے دوست رہے ہیں سلسلہ کے اہم عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں اور انگلستان کے سفر میں بھی میرے ساتھ رہے ہیں اور اس بات کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ان پر ایسا ابتلاء آئے گا مگر اس کے پورے ہیں سال بعد ۱۹۳۴ ء میں ان کے دل میں بیماری پیدا ہوئی اور ۱۹۳۷ ء میں ظاہر ہوئی اور اگر وہ غور کریں تو یہی امر میرے اور ان کے درمیان ما بہ الامتیاز ہو سکتا ہے۔آخر وجہ کیا ہے کہ بقول ان کے بزرگ وہ ہیں، سلسلہ کا کام کرنے والے وہ ہیں، احمدیت کے حقیقی خادم وہ ہیں اور ان کے ارتداد کی خدا نے مجھے خبر دی انہیں خبر نہ دی۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ ان کے ایمان کی خرابی کی تو خدا نے مجھے اطلاع دے دی مگر میرے ایمان کے خراب ہونے کی انہیں کوئی اطلاع نہ ملی حالا نکہ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا میں تھا اور وہ احمدیت کی صحیح رنگ میں خدمت کرنے والے تھے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے جرمن کا بادشاہ آسٹریا سے جنگ کرنے کا ارادہ کرے اور آسٹریا کے کمانڈ رکو اپنے اس ارادہ سے اطلاع دے دے مگر اپنے کمانڈ رکو کوئی اطلاع نہ دے۔کیا کسی معمولی عقل و فہم رکھنے والے انسان کے دماغ میں بھی یہ بات آ سکتی ہے کہ جسے خدا تعالیٰ نے نَعُوذُ بِاللهِ مصری صاحب کے ذریعہ تباہ کرنا تھا اسے تو تمام باتوں کی اطلاع دے دی مگر اپنے کمانڈر کو کچھ بھی نہ بتایا۔پھر ۱۹۳۵ء میں میں نے رویا دیکھی جو سنادی گئی تھی کہ کوئی شخص میرا ازار بند کھول کر مجھے نگا کرنا چاہتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ مخلص بن کر دبانے لگا ہے اور ساتھ ہی شرارتاً اُس نے میرے ازار بند کو کھولنا چاہا لیکن میں اسے دھتکارتا ہوں اور کہتا ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے عبدالقادر بنایا ہے تم اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ رویا بھی جس وقت میں نے بیان کی اس وقت اس فتنے کی کوئی بات ظاہر نہیں تھی۔پھر آٹھ نو سال ہوئے میں نے رویا دیکھی کہ