انوارالعلوم (جلد 14) — Page 13
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے ریلوے سٹیشن پر آ کر لوگوں کو ورغلاتے رہتے تھے کہ قادیان نہ جاؤ۔اُس زمانہ میں پیراں دتا نامی ایک پہاڑی آدمی یہاں رہتا تھا۔جس کے دماغ میں اختلال تھا۔اسے پہلے گینٹھیا کی بیماری تھی کسی نے اسے خبر دی کہ قادیان میں مرزا صاحب بہت محبت سے علاج کرتے ہیں اور سب خرچ بھی خود اُٹھاتے ہیں اس پر وہ یہاں آیا اور اچھا ہو گیا۔بعد میں اس کے رشتہ دار وغیرہ اُسے لینے آئے تو اس نے جواب دیا کہ میں تو اب انہی کے دروازے پر رہوں گا۔وہ اس قدر سادہ طبع تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے اسے کہا۔پیراں دتے ! اگر تم پانچوں نمازیں پڑھو تو دورو پے ملیں گے۔پہلی نماز اس نے عشاء کی پڑھی ، اس لئے آخری نماز مغرب کی تھی۔جب وہ مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا تو اندر سے کسی خادمہ نے آواز دی پیر یا ! کھانا لے جا۔اُن دنوں مہمان تھوڑے ہوتے تھے اور سب کے لئے کھانا گھر میں ہی پکا کرتا تھا۔پیرے نے کوئی جواب نہ دیا عورت جاہل تھی اور جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے اُسے سخت سست کہنے لگی۔اس پر پیرے نے چلا کر کہا ٹھہر جا دو رکعت رہتی ہیں ، ابھی پڑھ کر آتا ہوں۔وہ ایسا آدمی تھا کہ کہا کرتا تھا لوگ مٹی کا تیل کیوں نہیں پی سکتے اور خود اگر کوئی اُسے آٹھ آنے دے دے تو دال کے پیالہ میں آدھی بوتل تیل ڈال کر کھا جاتا تھا۔غرضیکہ وہ بالکل موٹی سمجھ کا آدمی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی تار وغیرہ دینے کے لئے یا کوئی پلٹی ریلوے سٹیشن سے لینے کے لئے کبھی اسے بٹالہ بھی بھیج دیتے تھے۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب اسے ملے اور کہا پیرے تو کیوں قادیان میں پڑا ہوا ہے ؟ مگر اس عقل کے آدمی نے انہیں کہا مولوی صاحب! میں پڑھا ہوا تو ہوں نہیں کہ کوئی اور جواب آپ کو دے سکوں۔مگر یہ ضرور ہے کہ آپ کی جوتی بھی گھس گئی ہے لوگوں کے پیچھے پھرتے پھرتے ، مگر پھر بھی لوگ قادیان چلے ہی جاتے ہیں اور مرزا صاحب اپنے گھر میں بیٹھے ہیں لوگ خود بخود ان کے پاس پہنچتے ہیں۔مولوی صاحب یہ جواب سن کر رکھسیانے ہوکر بُرا بھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔اسی طرح ہمارے ایک رشتہ دار تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چڑانے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو چوہڑوں کا پیر بنالیا۔اُس زمانہ میں کچھ چوہڑے بھی احمدی ہوئے جو یہاں آئے۔ان کو جب معلوم ہوا تو ان سے کہا کہ تمہارا پیر تو میں ہوں مرزا صاحب نہیں ان میں تم نے کیا خوبی دیکھی ہے کہ ان کے پیرو ہو گئے ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم چوہڑے تھے۔مرزا صاحب کی پیروی سے لوگ اب ہمیں بھی مرزائی کہنے لگ گئے ہیں اور آپ مرزا تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے کی وجہ سے چوہڑے بن گئے ہیں۔بس آپ میں اور مرزا صاحب میں فرق اتنا ہی