انوارالعلوم (جلد 14) — Page 434
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ نے وہاں ہسپتال بھی کھول دیئے ہیں، علاج کا سامان فوراً میسر آ جاتا ہے، نیز سانپ بھی آبادی کی وجہ سے کم ہو رہے ہیں۔پس اب سات آٹھ ماہ سے لوگوں کی ادھر توجہ ہوئی ہے اس سے پہلے دو تین سال ہمیں ملازموں کا تلاش کرنا سخت مشکل ہوتا تھا۔خصوصاً اس لئے بھی کہ کام زمیندارہ ہے اگر زمینداروں کو بھجواتے تھے تو وہ چند ماہ کے بعد کام چھوڑ کر خود اپنا زمیندارہ شروع کر دیتے تھے اور ملازمت کا تسلسل ٹوٹ جاتا تھا۔ہمارے روپیہ سے تجربہ کر کے لوگ خود فائدہ اُٹھاتے تھے۔اور غیر زمینداروں سے مضبوط آدمی جو زمیندارہ کام کی مشکلات کو برداشت کر لیں ملنے مشکل تھے۔پس ہم حسب حالات وہاں کی تنخواہیں دینے پر مجبور تھے جو یہاں سے بہت زیادہ ہوں۔میاں عبد الرحمن اس سے چھ ماہ پہلے سے بعض کام آنریری طور پر کر کے کچھ زمیندارہ کام سے واقف ہو گئے تھے اور جسم سخت آب و ہوا کی برداشت کے قابل تھا اور ا کا ؤنٹس کا کام بھی سیکھ لیا تھا اور پھر کمپاؤنڈری بھی سیکھے ہوئے تھے اس لئے میں نے ان کو تحریک جدید کی نئی زمینوں پر کام کرنے کیلئے مقرر کر دیا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہاں تنخواہوں کا حساب یہاں سے بالکل مختلف ہے۔ہمارے ایک گریجوایٹ مینیجر ہیں وہ یہاں دس روپے پر کام کرنے کو راضی تھے میں انہیں پندرہ یا بیس دیتا تھا۔وہ آج کل وہاں کام کر رہے ہیں اڑتالیس روپے تنخواہ ہے ، دومن غلہ ملتا ہے ، مکان مفت ہے اور پیداوار پر انعام الگ ملتا ہے۔سب ملکر ستر روپے کے قریب تنخواہ ہو جاتی ہے۔اب گجا پندرہ ہیں اور کجاستر۔عرصہ بھی زیادہ نہیں ہوا ، میرے پاس سندھ میں کام کرتے ہوئے انہیں صرف ایک سال کے قریب ہوا ہے۔ان کے ساتھ جو شرائط ہیں ان کے مطابق وہ اچھی طرح کام کریں تو سو روپیہ ماہوار ان کو مل جانا بھی بعید نہ ہو گا۔اسی طرح ایک دوسرے مینیجر ہیں وہ غالباً چھ سات جماعت پاس ہیں لیکن بڑے تجربہ کار ہیں، انہیں ۴۴ روپے ماہوار تنخواہ اور دومن غلہ اور پیداوار پر انعام الگ ملتا ہے ، جو اس سال تین سو سے زائد تھا، گویا انہیں گل اسی روپے ماہوار کے قریب بیٹھے۔اس سال اِنْشَاء الله امید ہے کہ انہیں سو روپے ماہوار سے بھی زیادہ ملے گا۔حالانکہ ان کی تعلیم میاں عبد الرحمن سے کم ہے ہاں تجربہ ہے۔میاں عبد الرحمن کچھ مدت میرے باغ میں کام کی نگرانی کرتے رہے تھے اور وہاں مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ زمیندارہ کام اچھی طرح کر سکیں گے۔یہ کام وہ ۱۹۳۵ ء سے کر رہے تھے ، جنوری ۱۹۳۶ء میں میں نے ان کے بارہ میں تجویز کی کہ انہیں سندھ بھجوا دیا جائے۔سندھ