انوارالعلوم (جلد 14) — Page 407
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ تفصیلات بھی بتائیں اور جہاں تک چوری کا تعلق ہے اس نے سب ذمہ واری اپنے اوپر لی۔ہاں مال کے فروخت کرنے کے متعلق اس نے باہر کے ایک غیر احمدی کی امداد لینے کا ذکر کیا۔شیخ صاحب نے اس بیان کا مجھ سے آکر ذکر کیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ اس کے رشتہ دار ہر جانہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔اُسی دن یا دوسرے دن مجھے غالباً امور عامہ کی طرف سے اطلاع ملی یا مجھے براہ راست کہا گیا یا دونوں طرح واقعہ ہوا مجھے اچھی طرح یاد نہیں مگر مجھے کہا گیا کہ مصری صاحب چاہتے ہیں کہ مال اگر مل جائے تو وہ سزا دلانے پر زور نہ دیں گے۔اس پر میں نے شیخ محمود احمد صاحب سے کہا کہ اگر تو وہ لوگ پورا نقصان پورا کرنے کو تیار ہوں تو میں مصری صاحب سے سفارش کر دوں گا لیکن اگر یونہی تھوڑا سا نقصان پورا کرنے کو کہیں تو میں اس کیلئے تیار نہیں ہوں۔یہ میں نے اس لئے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ ان لوگوں کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ اڑھائی ہزار روپیہ یکمشت یا قریب عرصہ میں ادا کریں اور میں ڈرتا تھا کہ بعد میں غلط فہمیاں پیدا ہو کر مزید بد گمانیوں اور فتنوں کا دروازہ نہ کھل جائے۔چنانچہ میرا شبہ درست نکلا اور معلوم ہوا کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو تھوڑا سا مال ملا ہے اس کے علاوہ دو تین سو روپیہ وہ دے سکیں گے۔اس پر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں دخل دوں۔اگر وہ پورا نقصان برداشت کرنے کو تیار ہوتے تو میں امور عامہ سے سفارش کرتا کہ وہ پولیس افسران سے مل کر چونکہ ملزم چھوٹا لڑکا تھا، مقدمہ واپس لینے کی سفارش کر دیں مگر بوجہ رشتہ داروں کے پورا نقصان ادا کرنے سے معذوری ظاہر کرنے کے وہ بات رہ گئی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عبدالمنان نے اپنے بیان میں ایک اور شخص کا نام بھی لیا تھا کہ چوری کا مال اُس کے ذریعہ سے فروخت ہوا اور یہ کہ اُس نے اکثر حصہ اپنے پاس رکھ لیا۔اس کی بناء پر میں نے ناظر صاحب امور عامہ کو ہدایت کی کہ وہ کسی معتبر آدمی کو ڈاکٹر احسان علی صاحب کے ساتھ جالندھر روانہ کریں اور وہ جا کر یہ کوشش کریں کہ اس شخص سے بھی مال مل جائے۔چنانچہ ناظر صاحب نے میرے حکم کے ماتحت جالندھر آدمی بھیجا دوسرے روز میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا کوئی آدمی آپ نے بھیجا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر احسان علی صاحب اور خلیفہ صلاح الدین صاحب کو بھیج دیا ہے۔اس پر میں نے اظہار نا راضگی کیا اور کہا کہ صلاح الدین تو ان کا رشتہ دار ہے۔اس سے دوسرے فریق کو خواہ مخواہ شبہ ہو گا آپ کو ایسا آدمی بھیجنا چاہئے تھا جو بالکل بے تعلق ہوتا۔