انوارالعلوم (جلد 14) — Page 405
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ میں چوری کی تحقیق کیلئے مقرر ہوئے اور مصری صاحب اور ملتانی صاحب برابر ان کے ساتھ تفتیش میں مشغول رہے۔مگر وہ شکوک جو انہوں نے میرے پاس بیان کئے تھے یا تو ان کے پاس انہوں نے بیان نہیں کئے یا پھر پولیس نے انہیں قابلِ توجہ سمجھا نہیں، کیونکہ پولیس نے عبد الرحمن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔جس سے دو باتوں میں سے ایک ظاہر ہے یا تو یہ کہ یہ لوگ خود سمجھتے تھے کہ جن کو ہم ثبوت کہتے ہیں، وہ ثبوت نہیں ہیں یا پھر یہ کہ پولیس نے ان کو ثبوت نہیں سمجھا۔دونوں صورتوں میں ان کا شکوہ بے جا ثابت ہوتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ میں نے جو نصیحت انہیں کی تھی وہ ان کے فائدہ کیلئے تھی۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ انہوں نے ان شواہد کو پولیس کے آگے پیش نہیں کیا۔یا کیا تو انہوں نے جو بالکل غیر جانبدار تھے، اس طرف توجہ نہ کی۔اگر ان دونوں وجوہ کے علاوہ کوئی اور مصلحت تھی تو وہ ان کو ظاہر کرنی چاہئے۔خلاصہ یہ کہ میرا صرف یہ جرم تھا کہ میں نے ان کی اور ساری جماعت کی خیر خواہی کی اور اسلام کے اس اصول کی طرف انہیں توجہ دلائی کہ تحقیق کی بنیاد بھی بعض دلائل پر خواہ وہ کمزور ہوں ، ہونی چاہئے نہ کہ محض وہم پر۔اگر اس وہم کے راستہ کو ہم کھول دیں گے تو کسی شریف کی عزت باقی نہیں رہتی۔اگر کسی اور کے ہاں چوری ہوتی اور وہ کہتا کہ مصری صاحب اور فخر الدین صاحب نے میرے ہاں چوری کی ہے تو کیا وہ اس الزام کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرتے اور کہتے کہ بہت اچھا تحقیق کر لو۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سخت ناراضگی کا اظہار کرتے اور مطالبہ کرتے کہ اس شخص کو سزا ملنی چاہئے۔غرض جس شخص کے بارہ میں انہوں نے شک کی وجہ بتائی اس کے متعلق محکمانہ تحقیق شروع کر دی گئی اور پولیس کو بھی اطلاع کر دی گئی جنہوں نے مختلف آدمیوں کو بطور جاسوس اس پر مقرر کیا اور بعد تحقیق انہیں معلوم ہوا کہ اس پر شبہ درست نہیں۔اس کے چند دن بعد ایک روز شام کے چوری کے متعلق دوسری رپورٹ بعد مصری صاحب کا لڑکا حافظ بشیر احمد میرے پاس آیا، میں اُس وقت غالباً اتم طاہر کے ہاں تھا، اس نے دستک دی اور میں باہر آیا۔تو اس نے کہا۔کہ آج ایک سُراغ ملا ہے مگر ہم اسے استعمال نہیں کر سکتے۔آج عبدالمنان برادر ڈاکٹر احسان علی کہیں باہر سے آیا ہے اور اس کے پاس ایک گھڑی، تلوار اور کچھ نقدی دیکھی گئی ہے وہ ڈاکٹر صاحب کا ہمسایہ بھی ہے اس لئے شک گزرتا ہے کہ وہ چور ہواور بتادیا گیا ہے کہ وہ صبح ہی واپس چلا جائے گا ، اس لئے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔میں نے کہا تم ابھی میری