انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 353

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) دفعہ آپ کے چہرہ پر ضعف کے آثار دیکھ کر صحابہ نے سمجھا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔چنانچہ ایک صحابی نے بکری ذبح کی اور آپ کو اور بعض اور صحابہ کو کھانا کھلایا۔مگر ایسے مواقع میں سے کسی ایک موقع پر بھی جنوں نے مدد نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں وہ بڑے ہی شقی القلب جن تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر وہ ایمان لائے تھے ان کو تو انہوں نے ایک روٹی بھی نہ کھلائی اور آجکل کے مولویوں کو سیب اور انگور کھلاتے ہیں پھر وہ مومن کس طرح ہو گئے ؟ وہ تو پکے کافر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ جن کوئی ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے نرالی ہے۔وہ جن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بھی انسان ہی تھے۔اور جس طرح اور لوگوں نے آپ کی مدد کی وہ بھی مدد کرتے رہے۔اگر کوئی نرالی مخلوق مانی جائے تو پھر اس سوال کا حل کرنا اُن لوگوں کے ذمہ ہوگا جو جنات کے قائل ہیں کہ وجہ کیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مدد نہ کی حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے۔اور قرآن میں انہیں یہ حکم تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں۔بنی نوع انسان کے علاوہ دوسری مخلوق پھر اس سے بڑھ کر ایک اور دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں بطور قاعدہ کلیہ شریعت پر ایمان لانے کی پابند نہیں کے فرماتا ہے۔إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ۳۰ یعنی ہم نے اپنی شریعت اور کلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوق کے سامنے پیش کیا اور کہا کوئی ہے جو اسے مانے اور اس پر عمل کرے؟ اس پر تمام آسمانی مخلوق نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم یہ بار امانت اُٹھانے کے ہرگز اہل نہیں۔پھر ہم نے زمینوں کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا اور کہا۔لو! یہ بوجھ اُٹھاتے ہو؟ انہوں نے بھی کہا ہرگز نہیں۔پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے بھی انکار کیا۔حالانکہ لوگ عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ جن پہاڑوں پر رہتے ہیں۔فَابَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا سارے ڈر گئے اور کسی نے بھی اس ذمہ داری کو اُٹھانے کی جرات نہ کی فَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ۔صرف ایک انسان آگے بڑھا اور اس نے کہا۔مجھے شریعت دیجئے میں اس پر عمل کر کے دکھا دونگا۔فرماتا ہے اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔انسان نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا کیونکہ وہ ہمارے عشق میں سرشار اور عواقب سے بے پروا تھا۔اُس نے یہ نہیں دیکھا کہ بوجھ کتنا بڑا ہے بلکہ شوق سے اُسے اُٹھانے کیلئے آگے نکل آیا۔اب دیکھو یہاں اللہ تعالیٰ