انوارالعلوم (جلد 14) — Page 332
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) بیٹھے ہیں۔میں کچھ حیران سا ہوا کہ یہ کہاں سے آگئے مگر پھر معلوم ہوا کہ یہ وہی یہودی ہیں جو سارے سفر میں ساتھ رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جو قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو اسی لئے کہ بتائے کہ بندر اور سو ر میں جو خصوصیتیں پائی جاتی ہیں وہ سب ان میں پائی جاتی ہیں۔اگر صرف اتنا کہہ دیتا کہ یہودی گندے اور بد کار ہیں تو وہ مضمون ادا نہ ہو سکتا۔غرض قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ سے مضمون کو حیرت انگیز وسعت ہوئی ہے حتی کہ قِرَدَةً اور خَنَازِیر کی بعض خصوصیات آج معلوم ہورہی ہیں اور وہ خصوصیات بھی یہودی قوم میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً بندر میں نقالی کا مادہ ہوتا ہے اور یہودیوں میں بھی نقل کا مادہ کمال درجہ پر پہنچا ہوا ہے۔پس یہودیوں کے متعلق بتایا کہ وہ صرف بدکار ہی نہیں بلکہ نقال بھی ہیں۔اسی طرح بندر پانی سے ڈرتا ہے۔یہود بھی ہمیشہ خشکی میں رہتے ہیں سمندر میں سفر نہیں کرتے۔اسی طرح درجن سے زیادہ خصوصیات ایسی ہیں جو یہود میں پائی جاتی ہیں مگر وہ سب قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ کے اندر خدا تعالیٰ نے بیان کر دیں۔اگر قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ اللہ تعالیٰ استعمال نہ کرتا اور الگ الگ ان کی خصوصیات بیان کرتا تو اس کے لئے ایک مکمل سورۃ چاہیے تھی۔اب رہے خَنَازِیر - تو خَنَازِیر میں بھی کئی عیب ہیں۔مثلاً ایک عیب تو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سیدھا جاتا ہے رستہ نہیں بدلتا حتی کہ حملہ بھی کرتا ہے تو سیدھا کرتا ہے۔یہود میں بھی یہ عیب پایا جاتا ہے وہ بھی اپنی زندگی کے شعبے تبدیل نہیں کر سکتے۔اسی طرح خنزیر میں گندگی پائی جاتی ہے اور یہود بھی حد درجہ گندے ہوتے ہیں۔پھر بعض امراض بھی خِنزیر میں ہوتی ہیں جو یہودیوں میں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں مگر میں اُن کا ذکر نہیں کرتا۔تیسرے تشبیہہ اور استعارہ کی ضرورت تبعید کیلئے ہوتی ہے یعنی مضمون کو اونچا کر دینا اور نظر کو وسیع کر دینا استعارہ کا مقصود ہوتا ہے۔مثلاً یہ استعارہ تھا کہ خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین اور بھائیوں کو سورج، چاند اور ستاروں کی صورت میں دیکھا۔اب خالی بھائی کہہ دینے سے وہ مضمون ادا نہ ہوتا جو ستاروں میں ادا ہوا ہے یا جیسے سورج اور چاند کے الفاظ میں ادا ہوا ہے کیونکہ سورج ، چاند اور ستارے ایک وسیع مضمون رکھتے ہیں۔مثلاً یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ تیرے بھائی باوجود اس کے کہ اس وقت تیرے مخالف ہیں اور ان کی عملی حالت اچھی نہیں اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں سے دنیا کی ،