انوارالعلوم (جلد 14) — Page 213
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔انسان بے شک اسے نیا کہہ دیں گے اور بعض انسان کہہ دیں گے یہ پرانا ہے۔مگر خدا اور خدا سے تعلق رکھنے والوں کے نزدیک وہ نہ نیا ہے نہ پُرانا۔ایک ہی دانہ ہے جو سب نے اپنے اپنے زمانہ میں کھایا اور کھاتے چلے جائیں گے۔غرض تو ایک تحریک کا نیا نام رکھنے سے یہ ہوتی ہے کہ کوئی فائدہ اُٹھائے۔اگر انسان اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو اسے جدید کہہ لو یا قدیم کہہ لو، بدعت کہہ کر چھوڑ دو یا اچنبھا سمجھ کر منہ سے اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے حضور وہی پسندیدہ ہوتا ہے جو اس کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار ہو، جو اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی عزت اور اپنی آبرو اور اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کے حوالے کر دے، اور اسے کہہ دے کہ آپ اس سے جو چاہیں سلوک کریں۔وہ خدا واحد اور لاشریک ہے، وہ اپنی چیز میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔وہ یہ نہیں دیکھ سکتا کہ کچھ حصہ اسے دیا جائے اور کچھ شیطان کو۔یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ دوستوں اور عزیزوں کو۔یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ حصہ دنیوی حکومتوں کو۔یا کچھ حصہ خدا کو دیا جائے اور کچھ حصہ اپنی بیوی اور بچوں کو۔خدا ایسے شخص کی کوئی چیز قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا نہیں ہوا اور نہیں ہوگا۔وخــــــده لَا شَرِیک ہونے کے لحاظ سے وہی چیز قبول کرتا ہے جو خالص اُسی کو دی جائے اور اس میں کسی اور کا حصہ نہ رکھا جائے۔پھر وہ اپنی خوشی سے جو چاہے واپس کر دے۔مگر اُس کو یہ پسند نہیں کہ اُس کی محبت اور اس کیلئے قربانیوں میں کسی دوسرے کو حصہ دار بنایا جائے۔پس ہر شخص جو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنے وطن اور اپنی ہر چیز کی قربانی میں کسی اور کو شریک بنا تا اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ خدا اُس سے راضی ہو، وہ نادان ہے۔وہ کبھی دینوی زندگی کا ما حصل نہیں پاسکتا۔اس کی کوششیں عبث اور رائیگاں ہیں۔وہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا کا مصداق ہے۔اور قیامت کے دن وہ اس بنجر زمین میں دانہ بونے والا قرار دیا جائے گا جس میں سے کچھ بھی نہیں اُگ سکتا۔جس کام کیلئے ہماری جماعت اس وقت کھڑی کی گئی ہے، وہ کوئی معمولی کام نہیں۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نوح کے زمانہ سے لے کر میرے زمانہ تک ہر نبی نے آخری زمانہ کے فتنہ سے لوگوں کو ڈرایا اور اُس کی ہیبت پر زور دیا ہے۔مگر کیا ہماری جماعت میں یہی