انوارالعلوم (جلد 14) — Page 194
انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے علاوہ ازیں اس سکول کے استادوں کو دوسرے مدرسوں کے لڑکوں کو کام سکھانے پر لگا یا جائے گا۔یعنی دوسرے مدرسوں کے طالبعلموں کو بھی اس قسم کے کام سکھائے جائیں گے۔مثلاً ہائی سکول یا مدرسہ احمدیہ کے جولڑ کے چاہیں گے ان کے لئے بھی انتظام کر دیا جائے گا۔مگران کیلئے ہفتہ میں صرف دو روز اس کام کیلئے ہوں گے کیونکہ انہیں اپنے کورس کی اور بھی پڑھائی کرنی پڑتی ہے۔بے شک اس طرح وہ بہت دیر میں کام سیکھ سکیں گے اور بعض دفعہ ان کو چھٹیوں میں یہ کام کرنا پڑے گا۔مثلاً گرمیوں کی رخصتوں میں ان کو اور کہیں جانے کی اجازت نہ ہوگی بلکہ انہیں یہ کام سکھایا جائے گا۔بہر حال جب تک ہم پیشوں کے ساتھ تمام لوگوں کی دلچسپی نہ پیدا کر دیں گے، اُس وقت تک پیشہ وروں کو ذلیل سمجھنے کی خرابی دور نہ ہو گی۔جب سارے لوگ مختلف پیشے جانتے ہوں اور ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی آدمی اس قسم کا کام کرتا ہو تو پھر پیشوں کے متعلق حقارت لوگوں کے دلوں سے مٹ جائے گی۔یورپ میں بڑے سے بڑے لوگ بھی اس قسم کے کاموں کو حقیر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کسی نہ کسی پیشہ کے ماہر ہوتے ہیں۔چنانچہ فرانس کا ایک پریذیڈنٹ تھا جس کے متعلق لکھا ہے کہ جب کبھی اسے اپنے کام سے فرصت ملتی تو وہ دھونکنی پر جا کر کام شروع کر دیتا۔پس اگر دوسرے سکولوں کی خواہش ہوئی تو ان کیلئے بھی انتظام کر دیا جائے گا اس کے بعد میں دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مل کر دعا کریں کہ اس ابتداء کو جو بظاہر چھوٹی اور پیچ معلوم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ترقی کی منازل تک پہنچائے اور ہمارے کام کرنے والے لوگ اس رنگ میں کام کریں کہ جہاں وہ دنیا کیلئے بہتری کا موجب ہوں ، وہاں دین کیلئے بھی بہتری کا باعث بنیں۔میں استادوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لڑکوں میں یہ روح پیدا کریں کہ دنیا کے ساتھ انہیں دین بھی حاصل کرنا ہے۔گویا وہ دست با کار اور دل بایار،، کے مصداق بنیں۔شروع سے ہی ان کے اندر یہ رُوح پیدا کی جائے کہ سلسلہ کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنا ، اپنے نفسوں کو مارنا اور اپنے پیشوں کو صرف ذاتی مفاد تک محدود نہ رکھنا بلکہ ان سے سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچانا ان کا مقصد ہے۔اگر یہ رُوح ان کے اندر پیدا ہو جائے کہ انہوں نے اپنی اپنی صنعتوں میں غیر ممالک کے صناعوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ادھر نیکی اور تقویٰ پر بھی قائم رہنا ہے، تب یہ لوگ ہمارے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔ورنہ روٹی کمانے والے تو دنیا میں بہت لوگ ہیں۔ہماری یہ غرض نہیں کہ صرف روٹی کمانے والے پیدا کئے جائیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہماری جماعت