انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 188

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے ہندوستانیوں سے ان کی بڑی بڑی قیمتیں لیتے تھے اور بہت کم لوگ اس راز سے آگاہ تھے باقی سارے لوگ ناواقف تھے۔جب جنگ شروع ہوئی تو دوائیاں نایاب ہو گئیں اور لوگ اس بات سے حیران تھے لیکن پھر یہ راز کھلا کہ جرمنی کی دوائیاں انگلستان میں سے ہوتی ہوئی ہند وستان آتی تھیں۔پس واسطے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک کی اشیاء اور ملکوں میں سے گزر کر اصلی حاجت مند کے پاس پہنچتی ہیں۔اس کے متعلق یہ پتہ لگایا جائے کہ کس ملک کی کونسی چیز کس کس ملک سے ہو کر آتی ہے۔یہ معلوم کرنے کے بعد جو چیز مثلاً جرمنی میں بنتی ہے، اس کیلئے اگر کوئی شخص جرمنی جا کر کہے کہ تم اپنی فلاں چیز براہِ راست ہمیں بھیجو اور اس طرح کی ایک دکان کھول لی جائے تو براه راست تعلق قائم ہونے کی وجہ سے بیچ کا نفع جو دوسرے لوگ اُٹھا رہے ہوں گے وہ نہیں اٹھا ئیں گے اور اس طرح وہ چیز سستی مل سکے گی اور نفع اپنے ہاتھوں میں رہے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ سات سات اور آٹھ آٹھ واسطے درمیان میں پڑ جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیوں کوئی چیز سات یا آٹھ ہاتھوں میں سے گزر کر آئے۔جتنے واسطے اُڑائے جاسکیں اتنی ہی کم قیمت دینی پڑے گی۔پس اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ چیز براہ راست ہمیں پہنچے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس پر کم خرچ آئے گا اور واسطوں کے اُڑ جانے سے ہم تھوڑے سرمایہ سے بڑے بڑے سرمایہ داروں کا مقابلہ کر سکیں گے۔مگر یہ تجارت قادیان میں نہیں ہوگی کیونکہ یہاں کوئی منڈی نہیں ہے۔یہ کلکتہ دہلی یا دوسرے بڑے شہروں میں قائم ہوسکتی ہے۔باقی پیشوں میں سے جو انسان کی ضروریات مہیا کرتے ہیں، کپڑا بننے کا کام بہت بڑے سرمایہ کو چاہتا ہے اور یہ شروع سے ہی لاکھوں روپیہ والے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اس لئے فوراً اس میں ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔اس کیلئے ہمارے پاس ایک NUCLEUS یعنی پیج ہے۔اور وہ ہوزری ہے۔فی الحال حجرا ہیں وغیرہ بنانے کا کام جاری ہے۔اس کے ساتھ ہم آہستہ آہستہ دوسرے کپڑے بنانے کا کام بھی شروع کر دیں گے۔کپڑے کیلئے کھڈیاں وغیرہ بھی استعمال کی جاتی ہیں لیکن ابھی تک کھڈیاں اتنی مفید ثابت نہیں ہوئیں۔ایک دودفعہ لدھیانہ سے مشینیں منگا کر دیکھی ہیں لیکن ان کے ذریعہ جو کام کیا گیا وہ زیادہ مفید ثابت نہیں ہوا۔اگر آئندہ مفید ثابت ہو تو وہ کام بھی انشاء اللہ شروع کر دیا جائے گا۔اب رہ گیا طب کا علم۔