انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 187

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے تعلق رکھتے ہوں گے۔یا نجاری کے کام سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ان چیزوں سے باہر اور شاید ہی کوئی چیز ہو۔اگر یہ چیزیں کوئی قوم مضبوطی سے حاصل کرے تو وہ دوسری قوموں سے آزاد ہو جاتی ہے۔ان کا مد پیشہ بے شک تجارت ہے مگر وہ تابع پیشہ ہے، حقیقی پیشہ نہیں اور اپنی ذات میں وہ کوئی الگ نہیں کیونکہ وہ انسان کی بنائی ہوئی چیزوں کو ہی لوگوں تک پہنچاتا ہے۔لیکن دولت کے لحاظ سے وہ پیشہ ان سے کم نہیں ان سے زیادہ ہی اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس لئے کہ مالی لحاظ سے اس کو ان پیشوں پر فوقیت حاصل ہے۔سوائے اس کے کہ پیشہ ور اپنے ساتھ تجارت کو بھی شامل کر لیں۔جب تجارت ساتھ شامل ہو جائے تو کام بہت وسیع ہو جاتا ہے۔میں نے تحریک جدید کے اس پہلو پر غور کرتے ہوئے یہ معلوم کیا ہے کہ ہماری جماعت میں کن پیشوں کی کمی ہے۔اور کون کون سے پیشے ایسے ہیں جنہیں انفرادی یا جماعتی طور پر ہمیں لوگوں کو سکھانے کی ضرورت ہے۔زراعت کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت میں کافی لوگ ایسے ہیں جو زراعت کا کام کرتے ہیں۔تجارت کے متعلق میں نے غور کیا اور میں نے دیکھا کہ اگر چہ اس کی ہماری جماعت میں کمی ہے لیکن چونکہ ہم ابھی اس کام میں فوری ہاتھ ڈالنے کے قابل نہیں تھے اس لئے میں نے چند مبلغوں کو تیار کیا کہ وہ بعض ایسی نئی تجارتی چیزیں دریافت کریں جنہیں ہم ہاتھ میں لے کر ان کی تجارت کر سکتے ہیں۔جو تجارتیں پہلے قائم شدہ ہیں ان میں ہمارا داخل ہونا کروڑوں روپیہ کے سرمایہ کی تجارتوں کے مقابل ہمارا کھڑا ہونا ناممکن ہے اس لئے میں نے یہ تجویز کی کہ نئی تجارتی اشیاء دریافت کی جائیں۔اس ضمن میں میں نے دیکھا کہ تجارتوں میں جو واسطے پائے جاتے ہیں ان کو اُڑانے کی ضرورت ہے۔ممکن ہے بعض دوست واسطوں کا مطلب نہ سمجھیں اس لئے میں اس کی تشریح کر دیتا ہوں۔واسطے کا مطلب یہ ہے کہ اصل خریدار تک پہنچنے کیلئے ایک چیز کئی ایک ہاتھوں میں سے گزر کر آتی ہے۔مثلاً ایک چیز انگلستان میں پیدا ہوتی ہے اور فرض کرو کہ وہ چین میں جا کر سکتی ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اسے پہلے ایک ملک نے خریدا اس سے پھر دوسرے نے اور پھر تیسرے اور چوتھے نے ، یہاں تک کہ وہ چیز کئی ملکوں میں سے ہوتی ہوئی چین تک جا پہنچی۔جنگ کے دنوں میں اس راز کا انکشاف ہوا تھا کہ وہ دوائیاں جو یہاں آ کر سکتی تھیں وہ دراصل جرمنی میں بنائی جاتی تھیں اور ان پر صرف انگریزی ٹھپہ لگتا تھا اور ہندوستان میں لوگ انہیں صرف انگریزی دوا تصور کر کے خریدتے تھے۔ہندوستانیوں کو اس بات کا علم نہ تھا۔انگریز انہیں جرمنی سے خرید کر