انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 180

انوار العلوم جلد ۱۴ لڑنا بے معنی ہے۔اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام ہمارے رسول کریم اللہ کے حالات میں اس اصل کی ایک نہایت لطیف مثال موجود ہے۔نجران جو یمن کا ایک حصہ ہے وہاں کے عیسائیوں کا ایک وفد آ نحضرت ﷺ کی خدمت میں مذہبی بحث کرنے کیلئے حاضر ہوا۔گفتگو لمبی ہو گئی۔ایک دن ( جو غالباً اتوار کا دن ہوگا کیونکہ تین دن کی گفتگو میں صرف ایک دن نماز کا ذکر آتا ہے ) عصر کے وقت انہوں نے اس خیال کا اظہار کر کے بحث کو ختم کرنا چاہا کہ ہماری نماز کا وقت ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ مسجد خدا کا گھر ہے تم اسی میں عبادت کر لو۔چنانچہ اُسی جگہ اسی مسجد میں رسول کریم اللہ کے سامنے ان لوگوں نے اپنی عبادت کر لی۔سے اگر ہمارے آنحضرت ﷺ اخلاق کا یہ نمونہ دکھاتے ہیں اور پھر ایسے موقع پر جہاں تو حید اور شرک کا اختلاف ہے تو اس میں ہمارے لئے ایک نہایت قیمتی سبق چھوڑتے ہیں کہ ہمیں مذہبی اختلاف کی وجہ سے آپس کی رواداری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔میں نے خود ۱۹۲۴ ء میں لنڈن کی مسجد کی بنیا د رکھتے ہوئے اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص مسجد کے نظام کی پابندی کرتے ہوئے اس مسجد میں اپنی عبادت کرے تو خواہ وہ کسی مذہب وملت کا ہو اس کی اجازت ہو گی۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نے یہ اعلان کیا تو یورپین لوگ نہایت حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ مسلمان دوسروں کے قتل کی فکر میں رہتا ہے اور آپ نے یہ تعلیم بیان کی ہے۔اپنی عبادت گاہ میں نظام کو ملحوظ رکھتے ہوئے دوسروں کو عبادت کی اجازت دینا ہرگز کوئی معیوب بات نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے اس سے ہمارے دل میں خدا کی محبت بڑھ جاتی ہے۔دیکھو اگر میرے سامنے کوئی شخص میرے والدین سے محبت کا اظہار کرے تو میں خوش ہی ہوں گا ناراض نہیں ہوں گا۔میں دیکھتا ہوں کہ دنیا میں مذاہب کی اس خصوصیت کو بالکل چھوڑا جا رہا ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ کے احسانات میں سے یہ بھی ایک بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے مُخْتَلِفُ الخيال فرقوں اور قوموں کے درمیان صلح کا ایک نہایت احسن طریق پیش فرمایا۔آپ نے قرآن کریم کی اس آیت کا کہ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ ، یعنی دنیا میں کوئی قوم نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نبی نہ گزرا ہو۔اپنی متعدد کتب اور تقریروں میں ذکر فرمایا ہے۔اس تعلیم کے ماتحت آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں ہندوؤں کے نبیوں کو بھی مانتا ہوں۔عیسائیوں کے نبیوں کو بھی مانتا ہوں کیونکہ اس میں قرآن کریم کی سچائی کا ثبوت ہے۔اگر ہم قرآن کریم کی اس