انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xvii

انوار العلوم جلد ۱۴ 11 تعارف کنند کتب (۸) تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت جلسہ سالانہ ۱۹۳۵ء کے موقع پر حضور انور نے ۲۶ دسمبر کو قادیان میں تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت پر خطاب فرمایا۔آغاز میں حضور نے چند متفرق امور کا تذکرہ فرمایا اور مختلف احباب کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔اس سال شائع ہونے والی کتب کا تعارف کرایا اور جماعت کو انہیں خریدنے کی تلقین فرمائی۔احباب جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پڑھنے کی خصوصیت سے توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی نازل ہوئی اور آپ کو جو رویا اور کشوف ہوئے وہ جماعت کے آئندہ پروگرام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں علاوہ ازیں اُن میں قرآن اور حدیث کی اعلیٰ درجہ کی تفسیر بھی ہے اس لئے اپنے ایمانوں کے ازدیاد اور قرآن کریم کی تفہیم کے لئے ان کا مطالعہ رکھنا نہایت ضروری ہے“۔حضور نے گزشتہ سال کے ایک اہم واقعہ یعنی احرار کو مباہلہ کی دعوت کا پس منظر بیان کیا اور فرمایا:۔" مجھے یقین ہے کہ وہ مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔اس خطاب کا اصل مضمون تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے بعض بنیادی مقاصد تھا۔فرمایا کہ تحریک جدید کوئی نئی تحریک نہیں بلکہ اس کا ایک بھی حکم ایسا نہیں جو قرآن مجید میں موجود نہ ہو اور ایک بھی حکم ایسا نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت نہ ہو۔فرمایا:۔مجھے بھی سالہا سال سے یہ انتظار تھا کہ کوئی ایسی آگ لگے جب ہماری جماعت کا ہر چھوٹا بڑا بیدار ہو جائے اور اس موقع پر میں وہ تحریک پیش کروں جو جماعت کو بحیثیت جماعت تیرہ سو سال پیچھے لے جائے“۔آپ نے تحریک جدید کے بنیادی مقاصد کے متعلق بعض اہم امور کا تذکرہ فرمایا اور