انوارالعلوم (جلد 14) — Page 122
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت جماعت نے اس معاملہ میں بہت کچھ کام کیا ہے۔چنانچہ اب دوسو مکان سالا نہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں بن رہا ہے اور بہت سے دوست زمینیں بھی خرید رہے ہیں۔یہ اور بعض دوسرے ذرائع سے امید ہے آئندہ جماعت پوری طرح کام کر کے دشمن کو مرکز سلسلہ پر حملہ کرنے کی طرف سے بالکل نا امید کر دے گی۔مگر اس کی طرف مزید توجہ کی ضرورت ہے اور رہے گی۔نویں غرض یہ ہے کہ علاوہ ایک مقررہ نظام کے ماتحت تبلیغ کرنے کے بعض علاقوں میں تبلیغ ایک خاص منظم صورت میں کی جائے۔میں نے تبلیغ کے مسئلہ پر بڑا غور کیا ہے اور اس کے متعلق ویسے ہی علوم میرے دماغ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے موجود ہیں جس طرح کہ علوم کسی بڑے سے بڑے جرنیل کے دماغ میں لڑائی کو کامیاب بنانے کے متعلق ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اب تک جو تبلیغ کا طریق ہماری طرف سے اختیار کیا جاتا رہا ہے ، وہ حقیقی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اس زمانہ کو اشاعت کا زمانہ قرار دیا تھا ، وہاں ضروری تھا کہ ہمارے دماغ میں تبلیغ کے متعلق نئی سے نئی تدابیر پیدا ہوتی رہتیں اور ہم ان ایجادات سے کام لے کر تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا میں ہلچل مچادیتے۔میں نے سوچا ہے کہ اگر جنگی اصول کے مطابق تبلیغ کے اصول مقرر کئے جائیں تو ہمیں بہت زیادہ کامیابی کی توقع ہو سکتی ہے جیسے ملک میں فوجی ضروریات کے ماتحت بعض دفعہ فوج بڑھائی جاتی ہے اسی طرح تبلیغ کا دائرہ بھی وسیع کر دیا جائے اور بہت زیادہ لوگوں کو یکدم تبلیغ پر لگا دیا جائے تو اس کے نتائج نہایت اعلیٰ نکل سکتے ہیں۔صحابہ کرام کے زمانہ میں قدرتی طور پر ایسے سامان میسر تھے اور وہ جد وجہد کو برابر جاری رکھتے چلے جاتے تھے مگر اب چونکہ اس قسم کے سامان نہیں اس لئے میں نے تبلیغ کو وسیع کرنے کیلئے کچھ حلقے تجویز کئے ہیں۔اس کے متعلق سکیم میرے ذہن میں ہے اور میں یقین رکھتا ہوں اگر اس سکیم کے مطابق عمل کیا جائے تو جلد ہی ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ اَفَوَاجًا تے کا نظارہ نظر آنے لگے۔اس وقت تک اس سکیم کے ماتحت تین چار مرکز تبلیغ کے قائم کئے گئے ہیں مگر اس کے لئے مجھے ایسے والنٹیئروں کی ضرورت ہے جنہیں ان علاقوں میں کام پر لگایا جائے تا کہ کام کو مضبوط کیا جاسکے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک جماعت میں ایسے لوگوں کی بہت کمی ہے جو رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو تبلیغ کیلئے پیش کریں جس قدر دوست اس وقت یہاں بیٹھے ہیں اگر ان میں سے نصف