انوارالعلوم (جلد 14) — Page 114
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت میں نے دیکھا ہے جماعت میں بہت بڑا اخلاص ہے مگر جب ہجوم میں میں ہوتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ دوست مجھے روند کر چلے جائیں گے۔اس کے مقابلہ میں یورپ میں دیکھ لو، وہاں اس طرح قطار باندھ کر لوگ کھڑے ہوتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ہلتا نہیں۔اور اگر کوئی راستہ کاٹ کر آگے بڑھے تو اس کے متعلق سب لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ بہت بڑا بدا خلاق ہے۔پس اخلاق تمہارے اعلیٰ ہیں لیکن چونکہ انہوں نے مسلسل مشق کے بعد ایک اچھی عادت اختیار کر لی ہے، اس لئے جب کوئی آپ لوگوں کے اجتماع کو دیکھے اور پھر یورپین لوگوں کے اجتماع کو دیکھے تو وہ یہی کہے گا کہ مخلص یورپ کے رہنے والے ہیں۔حالانکہ ان کے اندر اس اخلاص کا ہزارواں حصہ بھی نہیں جو تمہارے اندر پایا جاتا ہے۔پس تحریک جدید سے ایک غرض میری یہ ہے کہ میں جماعت کو آئندہ فتن کیلئے تیار کرنا چاہتا ہوں۔اور اسے ایسی مشق کرانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی مشکلات آئندہ زمانہ میں اسے پیش آئیں تو وہ دلیری سے اس کا مقابلہ کر سکے۔میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے ایک دوست ہیں۔وہ سلسلہ کیلئے اتنی بڑی قربانی کرتے ہیں کہ اپنی آمد کا ۳/۴ حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔اور ۱/۴ یا اس سے بھی کم حصہ وہ اپنے اخراجات کیلئے رکھتے ہیں۔یہ بہت ہی مخلص ہیں اور ان میں خدمت دین کا بے انتہاء جوش ہے۔انہوں نے تحریک جدید کے ماتحت اپنے بیٹے کو قادیان بھیجا اور بعد میں مجھے لکھا کہ گو ہم سب خدا تعالیٰ کیلئے قربانی کرتے ہیں مگر میرا بیٹا سب سے زیادہ قربانی کرتا ہے کہ وہ تحریک جدید کے بورڈنگ میں ہے اور اسے کھانا حسب عادت نہیں ملتا۔اب چونکہ ان کے بچہ کو دال کھانے کی عادت نہ تھی ، اس لئے یہ بات تو انہیں بہت بڑی قربانی نظر آئی لیکن اپنی آمد کا ۱۴ ۳ حصہ دے دینا کوئی بڑی بات معلوم نہ ہوئی۔صرف یہ سمجھا کہ میرا بچہ جو دال کھاتا ہے، یہ بہت بڑی قربانی ہے۔تو کسی چیز کی عادت یا مشق نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو بہت سی مشکلات پیش آیا کرتی ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل میں جس قد را خلاص تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن انہیں تیز چلنے کی عادت نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کیلئے تشریف لے جاتے تو حضرت خلیفہ اول بھی ساتھ ہوتے مگر تھوڑی دور چل کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیز قدم کر لینے تو حضرت خلیفہ اول نے قصبہ کے مشرقی طرف قصبہ کے باہر ایک بڑے کا درخت ہے اس کے نیچے بیٹھ جانا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیر سے واپس آنا تو پھر آپ کے ساتھ ہو لینا۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ حضرت مولوی صاحب