انوارالعلوم (جلد 14) — Page 103
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت تحریک جدید اس لئے رکھا ہے کہ بعض لوگوں کیلئے جدید چیز لذیذ ہوتی ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔كُلُّ جَدِيدٍ لَذِيذ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پرانی چیز ہے اور جیسا کہ میں اپنے ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں بیان کر چکا ہوں تحریک جدید کا ایک حکم بھی ایسا نہیں جو قرآن کریم میں موجود نہ ہوا اور ایک حکم بھی ایسا نہیں جو رسول کریم ﷺ کے عمل سے ثابت نہ ہو۔گوزمانہ کے حالات کے مطابق ممکن ہے کسی حکم کی شکل تبدیل ہو گئی ہو۔مثلاً بورڈنگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نہیں ہوتے تھے مگر بچوں کی تربیت کے اصول وہی ہیں جو رسول کریم ﷺ نے بیان کئے۔تو تحریک جدید جسے دراصل میں وہ قدیم تحریک کہتا ہوں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ سے اذن لیکر جاری کی۔جب تک جماعت اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی میرے نزدیک اس وقت تک حقیقی طور پر جماعت کوئی کام نہیں کر سکتی۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان کے مفہوم کو اچھی طرح جانتا ہے لیکن جب اس پر جرح کی جائے اور کسی بات کی باریکیاں اس سے دریافت کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے اس نے بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھا اور اگر سمجھا بھی ہے تو محض سطحی رنگ میں۔مجھے بھی یقین ہے کہ ابھی تک جماعت کے اکثر افراد نے اس تحریک کا مفہوم نہیں سمجھا حالانکہ اس کے متعلق میں نے اتنے خطبے پڑھے ہیں کہ اس سے پہلے کسی اور بات کے متعلق میں نے اتنے خطبے کبھی نہیں پڑھے۔لیکن باوجود اس قدر تفصیل سے تحریک جدید کو بیان کرنے کے مجھے وہم ہے کہ جماعت کے اکثر افراد ایسے ہیں جنہوں نے اس کے مفہوم اور اہمیت کو ابھی تک نہیں سمجھا۔اور اگر وہ سمجھ جاتے تو یقیناً میں ان میں ایسا تغیر دیکھتا جو مجھے ابھی تک نظر نہیں آ رہا۔عام طور پر دوست یہ خیال کرتے ہیں کہ احراری فتنہ کو دیکھ کر اس کے استیصال کیلئے چند وقتی باتیں میں نے بیان کر دی ہیں۔حالانکہ اس کا موجب احرار فتنہ نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ احرار کا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہانہ بنا دیا ہے کیونکہ ہر تحریک کے جاری کرنے کیلئے ایک موقع کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب تک وہ موقع میسر نہ ہو جاری کردہ تحریک مفید نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔بے شک مخلص لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب بھی ان کے سامنے بات پیش کی جائے وہ اس پر توجہ کرتے ہیں، مگر عام جماعت میں بیداری پیدا کرنے اور کمزوروں کو بھی متوجہ کر نے کیلئے کسی خاص موقع کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔مجھے بھی سالہا سال سے یہ انتظار تھا کہ کوئی ایسی آگ لگے جب ہماری جماعت کا ہر چھوٹا بڑا بیدار ہو جائے۔اور اس موقع پر میں وہ تحریک پیش کروں