انوارالعلوم (جلد 14) — Page 78
انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔اب اس گھلے نشان کو دیکھ کر بھی جو شخص پیچھے رہتا ہے، وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا تا ہے کیونکہ معمولی حاکموں کے احکام کو ر ڈ کرنے والا شخص بھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔تو جو شخص رب العلمین خدا کی دعوت کو رد کرتا ہے، اس کا کیا حشر ہوگا۔لیکن میرے نزدیک ہمیں سزا کو نہیں دیکھنا چاہئے۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جب ہمارے پیدا کرنے والے نے ہاں اُس خدا نے جس کے حسن کے مقابل پر سب حسن بیچ اور بے حقیقت ہیں ، ہمیں اپنی جلوہ نمائی کیلئے بلا یا ہے اور ہم اس میں سستی کرتے ہیں تو کیا اس عظیم الشان موقع کو کھو کر ہم کبھی بھی امید کر سکتے ہیں کہ پھر ہم کو یہ موقع دیا جائے گا اور ہم کبھی بھی اس کے جلال کو دیکھ سکیں گے؟ پس میں ایک طرف تو تمام دنیا کے باشندوں کو اس نشان پر غور کرنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی دعوت دیتا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام بنی نوع انسان کو خواہ مسلمان ہوں، خواہ ہندو، خواہ سکھ ، خواہ عیسائی سچائی قبول کرنے کی توفیق دے اور دنیا کی محبت اور دنیا کے خوف کو لوگوں کے دلوں سے مٹا کر اپنی محبت اور اپنا خوف بخشے کہ اسی میں سب ترقی ہے اور اسی میں سب عزت ہے۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ ۱۲۔دسمبر ۱۹۳۵ء (الفضل ۱۸/ دسمبر ۱۹۳۵ء) ا تذکرہ صفحہ ۴۳۶۔ایڈیشن چہارم تذکرہ صفحہ ۴۳۸۔ایڈیشن چہارم ۴،۳ تعطیر الانام الجزء الاول صفحه ۱۰۴ حاشیه مطبع حجازی قاہرہ ۱۲۸۴ھ تعطیر الانام الجزء الاول صفحه ۱۰۳ حاشیہ مطبع حجازی قاہرہ ۱۲۸۴ھ 1 السيرة الحلبيه الجزء الثانی صفحه ۳۳۴ مطبع محمد علی صبیح الازهر ۱۹۳۵ء کے تذکرہ صفحہ ۲۷۔ایڈیشن چہارم