انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 63

انوار العلوم جلد ۱۴ آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیر زکور سے خطاب پڑا جو انتہائی تھا لیکن میں خوش ہوں کہ اس موقع پر کور نے ہمت ، دیانت اور استقلال سے کام کیا۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو ر کی اس خدمت کو قبول کرے اور آئندہ اور بھی عمدگی سے کام کرنے کا موقع دے اور میں امید رکھتا ہوں کہ میرے اس خطبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کور میں شامل ہونے والے استقلال سے کام کریں گے۔چند دن اچھے سے اچھا کام کر کے بھی چھوڑ دینا کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔فائدہ اسی کام سے ہو سکتا ہے جو مستقل طور پر کیا جائے اور اُس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک اس کی ضرورت ہو۔کور کے ممبر چونکہ کور کے ملازم نہیں ، اس لئے ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض کو ملازمت یا کاروبار کے سلسلہ میں یہاں سے جانا پڑے۔اگر کور کا کوئی ممبر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں کو رہو تو جب تک وہ ایسی عمر تک نہیں پہنچ جاتا کہ کور کی خدمات سے آزاد ہو سکے اور پھر وہ کور میں شامل نہیں ہوتا تو اپنا کیا کرایا کام ضائع کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے ایک ایسی عورت کا ذکر فرمایا ہے جو سوت کا تی رہتی ہے اور پھر ا سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔یہ اس بات کی مثال ہے کہ کوئی اس لئے سُوت کاتے کہ کپڑا بنائے۔لیکن جب وقت آئے تو بجائے اس کے سوت کو کھولے قینچی سے کاٹ دے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بے استقلالی کی مثال بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ بعض لوگ کام تو کرتے ہیں لیکن نتیجہ ے پہلے ہی اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح سارا کیا کرا یا ضائع کر دیتے ہیں۔میں کور کے ممبروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی استقلال سے کام کریں اور اپنے ساتھیوں اور محلہ والوں کو بھی استقلال سے کام کرنے کی تحریک کریں اور اصل غرض اس کو ر کی جو ہے، اسے مد نظر رکھیں۔بے شک کور کا یہ بھی کام ہے کہ جماعت کے مقدس مقامات کی حفاظت کرے مرکز احمدیت میں کسی قسم کا فتنہ نہ پیدا ہونے دئے جماعت کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے پبلک کیلئے آرام اور سہولت پیدا کرے لیکن اس کے لئے سب سے بڑی چیز اچھے اخلاق پیدا کرنا ، اپنے جذبات پر قابو پانے کی مشق کرنا اور اپنے اندر اطاعت کا مادہ پیدا کرنا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھنے اور اطاعت کا مادہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا ایمان ضائع کر لیتے ہیں۔پہلے کوئی چھوٹی سی شکایت پیدا ہوئی اس پر اعتراض کرنے لگ گئے، پھر عقائد میں فتور آنا شروع ہو گیا وہ اس طرح ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔کور کی تنظیم سے یہ بھی غرض ہے کہ اطاعت کا مادہ پیدا ہوا اور ہر شخص اپنے افسر کی پوری پوری اطاعت کرے۔اسلام نے افسر کی اطاعت نہایت ضروری قرار دی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مَنْ أَطَاعَ