انوارالعلوم (جلد 14) — Page vii
انوار العلوم جلد ۱۴ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب تعارف کنند کتب یہ انوارالعلوم کی چودہویں جلد ہے جوسید نا حضرت فضل عمر خلیفہ مسیح الثانی کی مئی ۱۹۳۵ء سے ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ ء تک کی اٹھائیں تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے (۱) احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ معرکۃ الآراء اور ولولہ انگیز خطاب ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء کو ارشاد فرمایا۔یہ وہ زمانہ تھا جب جماعت کو شدید قسم کی مخالفت کا سامنا تھا۔ایک طرف احرار کی مخالف تحریک اپنے زوروں پر تھی۔دوسری طرف انہوں نے بعض حکام کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور جماعت کو نقصان پہنچانے کے نت نئے منصوبے بنائے جا رہے تھے۔پھر جماعت کے اندر بعض منافقین بھی اپنی رذیل سرگرمیوں میں مصروف تھے۔اس پر آشوب دور میں حضرت اصلح الموعود لمصل نے تحریک جدید کی بنیاد رکھی۔آپ کو القاء ہوا کہ ہر چھ ماہ بعد احباب کو تحریک جدید کے امور سے متعلق یاد دہانی کروائی جائے۔حضور فرماتے ہیں:۔اس کے ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ اس کے لئے پہلا دن اگر وہ دن ہو جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تھے تو یہ گویا ہمارے عہدوں کی تجدید کا نہایت لطیف موقع ہوگا“۔حضور کی اس خواہش کے مطابق ۶ ماہ بعد ۲۶ مئی کو اتوار کا دن تھا چنانچہ قادیان میں جلسہ کا