انوارالعلوم (جلد 14) — Page 559
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر خارجہ کو مارا ہے تو بے اختیار اُس کی زبان سے یہ فقرہ نکلا کہ اَرَدْتُ عَمُرًا اَرَادَ اللَّهُ خَارِجَةَ میں نے تو عمرو کا اردہ کیا تھا مگر خدا نے خارجہ کا ارادہ کیا اور اس کے بعد یہ فقرہ ایک ضرب المثل بن گیا۔اب اگر کسی نے یہ کہنا ہو کہ میں نے تو فلاں کام کا ارادہ کیا تھا مگر خدا نے نہ چاہا اور فلاں کام ہو گیا تو عربی زبان میں وہ یہ کہا کرتا ہے کہ اَرَدْتُ عَمْرًا أَرَادَ اللَّهُ خَارِجَةَ ۴۲ ھ میں خوارج نے پھر زور کیا اور پہلے لیڈر کے مارے جانے پر مشقورڈ کی بیعت کی۔اس کے بعد کے حالات سے ہمیں زیادہ بحث نہیں اس لئے میں اس حد تک ہی ان کے حالات بتا تا ہوں۔اب میں ان لوگوں کے مذہبی پہلو کو لیتا ہوں اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ان لوگوں کی ابتدا تحکیم سے ہوئی ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شامیوں نے جو مغربی سیاست کی تعلیم پاچکے تھے اندر ہی اندر رشوتوں سے حضرت علیؓ کے لشکر میں سے بعض کو اس امر کیلئے تیار کیا ہوا تھا کہ اگر شکست ہونے کا خطرہ ہوا تو ہم قرآن بلند کر دیں گئے تم اُس وقت ہماری تائید کے لئے کھڑے ہو جانا اس طرح مسلمانوں کا کمزور طبقہ ہمارے ساتھ مل جائے گا۔چنانچہ انہوں نے تائید کی اور قرآنی حکم کو ماننے کے پسندیدہ خیال نے ایک گروہ کو جو حضرت عثمان کے وقت سے اعتراض کرنے کی عادت ڈال چکا تھا، جادہ صواب سے پھر ا دیا اور انہوں نے ان رشوت خوروں کی تائید کرنی شروع کر دی لیکن جونہی ان کے کہنے سے کمیشن کا فیصلہ ہو گیا جو لوگ بے وقوف عابد تھے انہیں غلطی محسوس ہوئی اور وہ تحکیم کے خلاف ہو گئے اور حضرت علیؓ سے کہنے لگے کہ تم نے گناہ کیا ہے اور ایک جُرم کا ارتکاب کیا ہے اور جو لوگ شرارتی تھے انہوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر فتنہ کو ہوا دینی شروع کر دی لیکن اب حضرت علیؓ کو وعدہ کے ایفاء کے خیال نے پیچھے ہٹنے سے روکا۔اور ان لوگوں کے دلوں میں جو یہ سمجھتے تھے کہ حضرت علیؓ نے گناہ کبیرہ کیا ہے یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ جب خلیفہ گناہِ کبیرہ کر سکتا ہے تو پھر وہ خلافتِ معصوم کا اہل کس طرح ہو سکتا ہے؟ پس ان لوگوں نے طے کیا کہ خلافت کا مسئلہ ہی غلط ہے۔در حقیقت خلافت شخصی نہیں بلکہ قومی ہے - وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۲۵ میں جس خلافت کا ذکر ہے وہ بھی قومی ہے نہ کہ شخصی۔اور اَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم ) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہاں نظام کو چلانے کیلئے ایک شخص کی بیعت اور اطاعت ضروری ہے مگر جماعت مسلمین اس کی نگران ہوگی اور جب چاہے گی اور