انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 16

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے اس طرح سلسلہ کو بدنام کیا جائے۔پس یہ لوگ بہت زیادہ خطرناک ہیں جو فتنہ پیدا کر کے جماعت کو بد نام کرنا چاہتے ہیں۔مجھے ہر گز یہ ڈر نہیں کہ حکومت ہم میں سے کسی کو قید کر دے گی یا پھانسی دیدے گی۔اس سے ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور مومن کو موت سے کیا ڈر ہوسکتا ہے۔ہاں مومن کو بدنامی سے ڈر لگتا ہے اس لئے میں اس بات سے ضرور ڈرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات جماعت کی طرف منسوب ہو جو جُرم اور گناہ ہو۔اس عرصہ میں قادیان سے باہر بھی مخالفت بہت بڑھ گئی ہے۔حمایت اسلام کے جلسہ پر جو کچھ ہوا وہ آپ لوگ جانتے ہیں ، لدھیانہ میں اور دوسرے مقامات پر احمد یوں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔عورتوں کی بے عزتی کی جاتی ہے، بچوں کو پیٹا جاتا ہے۔سیالکوٹ ، ہوشیار پور وغیرہ مقامات پر بھی سخت تکالیف دی جا رہی ہیں، بعض جگہوں پر ہمارے مبلغوں کو ان کے اپنے مکانوں میں بھی نہیں رہنے دیا جاتا ، بعض کو جوتیوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں ، بعض کے منہ کالے کر کے گدھوں پر سوار کرایا جاتا ہے۔یہ سب کچھ برطانوی حکومت کے اندر ہو رہا ہے ، مگر وہ بے بس ہے بوجہ اس کے کہ مخالفوں کی کثرت ہے اور تم اقلیت میں ہو۔پس حق اور انصاف کی دلیل سے تم گورنمنٹ کو بھی نہیں منوا سکتے صرف ایک دلیل ہے جسے ماننے پر سب مجبور ہو نگے اور وہ یہ کہ تم اپنی اقلیت کو اکثریت میں بدل ڈالو تم کل ہی ان اعداد کو بدل دو پھر دیکھو حکومت کس طرح تمہاری ہر دلیل کو مانتی ہے۔پنجابی میں ایک مثل مشہور ہے کہ جس دی کوٹھی دانے اُس دے کملے وی سیانے ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ان کے اندازہ کے مطابق ہماری تعداد ۵۶ ہزار ہے اور ان میں صرف اتنی خوبی ہے کہ وہ اپنی طرف پنجاب کے ایک کروڑ لوگوں کو منسوب کرتے ہیں حالانکہ یہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں۔میں کبھی نہیں مان سکتا کہ زمینداروں کی اکثریت اس قدر گندی ہوگئی ہو کہ کمزور پر ظلم کو برداشت کر سکے۔ان میں سے بہت تھوڑے احراریوں کے ساتھ ہیں باقی کو اس کا علم بھی نہیں کہ احمدیوں پر کس قدر مظالم کئے جا رہے ہیں۔اگر ان کو اس کا علم ہو تو وہ اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ان خطرات سے بچنے کیلئے میں نے بعض تجاویز کی تھیں۔آج بعض مقررین نے ان کے متعلق تقریریں کی ہیں مگر مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض امور کے متعلق زیادہ وضاحت سے بیان نہیں کیا جا سکا اس لئے ان امور کے متعلق میں بعض باتیں بیان کر دیتا ہوں۔ان فتنوں سے بچنے کے