انوارالعلوم (جلد 14) — Page 500
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر لیکن اسی درخت کی اگر ایک شاخ کاٹ لی جائے تو وہ علیحدہ نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ گل کا جو وہے اور جز و گل سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کا یہ ایسا قانون ہے کہ جس کے خلاف اعلیٰ مخلوق میں ہمیں کوئی مثال نظر نہیں آتی ، ادنی مخلوق میں بعض مثالیں نظر آتی ہیں۔چنانچہ بعض جانور ایسے ہیں کہ اگر انہیں دوٹکڑے کر دیا جائے تو اُن کے دونوں ٹکڑے زندہ رہتے ہیں مگر یہ ادنی درجہ کے کیڑے ہوتے ہیں۔اعلیٰ قسم کی مخلوق میں سے کسی کا کوئی عضو اصل سے جدا ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح جب کوئی افراد ایسے ہوں جو اپنے آپ کو جماعت کہتے ہوں اور ان کا ایک مقصد اور مدعا ہو تو ان کی نسبت بھی جماعت کے ساتھ وہی ہوا کرتی ہے جو شاخ کی درخت کے ساتھ یا انسان کے ہاتھوں اور پاؤں کی اس کے بدن کے ساتھ ہوا کرتی ہے اور یہ نسبت اُس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے جب تک وہ جماعت کا حصہ رہتے ہیں۔پس جماعتی معاملات میں افراد کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے جب تک اُن کا جڑ سے تعلق نہ ہو اور اس زمانہ میں یہ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اخبارات ہیں انسان کسی جگہ بھی بیٹھا ہوا ہو اگر اسے سلسلہ کے اخبارات پہنچتے رہیں تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے پاس بیٹھا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے میں اب بول رہا ہوں گو عورتوں کا جلسہ بہت دُور ہے مگر لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے وہ بھی میری تقریرین رہی ہیں۔اگر لاؤڈ سپیکر نہ ہوتا تو انہیں کچھ علم نہ ہوتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔پس لاؤڈ سپیکر نے عورتوں کو میری تقریر کے قریب کر دیا اسی طرح اخبارات دُور رہنے والوں کو قوم سے وابستہ رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ الحکم اور بدر ہمارے دو بازو ہیں۔گو بعض دفعہ یہ اخبارات ایسی خبریں بھی شائع کر دیتے تھے جو ضرر رساں ہوتی تھیں مگر چونکہ ان کے فوائد ان کے ضرر سے زیادہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہم ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے یہ دو اخبارات ہمارے دو بازو ہیں۔دو بازو ہونے کے یہی معنی ہیں کہ ان کے ذریعہ ہمارا جو بازو ہے یعنی جماعت وہ ہم سے ملا ہوا ہے۔پھر اُس زمانہ میں ہمارے اخبارات کی طرف احباب کو بہت توجہ ہو ا کرتی تھی حالانکہ جماعت اُس وقت آج سے دسواں یا بیسواں حصہ تھی۔چنانچہ بدر کی خریداری ایک زمانہ میں چودہ پندرہ سو رہ چکی ہے ، اسی طرح الحکم کے خریداروں کی تعداد ایک ہزار تک تھی بلکہ الحکم نے تو ایک دفعہ روزانہ ہونے کی صورت بھی اختیار کر لی تھی تو جماعت کے دوست اس زمانہ میں کثرت سے اخبارات خرید تے تھے بلکہ جو پڑھے لکھے نہیں تھے بعض دفعہ وہ بھی خریدتے