انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 488

انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ء تقریر فرموده ۲۶۔دسمبر ۱۹۳۷ء بمقام قادیان) تشہد ، تعوّذا ورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے مختلف نام ہیں اور ان ناموں میں سے یا ان صفات میں سے جو وہ رکھتا ہے اور جو اس نے اپنے کلام مجید میں بیان فرمائی ہیں دو صفتیں قابض اور باسط کی ہیں۔یعنی وہ کسی وقت انسان یا قوم کیلئے قبض کی حالت پیدا کرتا ہے اور کسی وقت انسان یا قوم کیلئے بسط کی حالت پیدا کر دیتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے اور بسا اوقات انسان کی حالت پر بہت بڑا رحم بھی ہوتا ہے۔جب کہ قبض حالتِ ایمان اور عرفان میں ایک سکون کا نام ہو تو خدا تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے میں منافق ہوں ، آپ دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس حالت سے نکال دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ خیال کیونکر پیدا ہوا۔اس صحابی نے کہا میں آپ کی مجلس میں آتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ میرے سامنے ہے لیکن جب مجلس سے باہر جاتا ہوں تو پھر یہ کیفیت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ تو خدا تعالیٰ کی رحمت ہے اگر ہر وقت اسی رنگ میں جنت و دوزخ کی کیفیت سامنے رہے تو انسان مر نہ جائے لے پس جب ایمان اور عرفان میں کمی محسوس نہ ہو بلکہ کبھی ولولہ اور جوش والا ایمان ہوا اور کبھی سکون والا تو یہ دو مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں اور دونوں دنیا میں نظر آتی ہیں مثلاً ماں باپ کے پیار کی یہی حالت ہوتی ہے۔ماں کبھی بچہ کو گود میں لے کر نہایت سکون کی حالت میں بیٹھی ہوتی ہے اور کبھی اس کو چھیڑتی اور گدگداتی ہے۔یہی حالت روحانی عشق اور محبت الہی کی ہوتی ہے کبھی محبت