انوارالعلوم (جلد 14) — Page 413
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اُس کی بات نہ مانیں اور دلیری سے مجرم کو سزا دلانے کی کوشش کریں۔اس کے بعد میرے پاس شکایت ہوئی کہ اب تک پولیس کا رویہ درست نہیں اور وہ رعایت کر رہی ہے۔اس پر میں نے خان صاحب فرزند علی صاحب کو جو اُس وقت ناظر امور عامہ تھے بلا کر کہا کہ وہ شیخ صاحب کو ساتھ لے جا کر سپرنٹنڈنٹ پولیس سے ملیں اور اس پر زور ڈالیں کہ کوئی صورت چوری نکلوانے کی کی جائے خان صاحب شیخ صاحب کو ساتھ لے کر وہاں گئے اور سپرنٹنڈنٹ صاحب سے کہا کہ ایک طرف تو یہ شکایت کی جاتی ہے کہ احمدی جرائم کا خود فیصلہ کرتے ہیں دوسری طرف یہ حال ہے کہ اس قدر دیر سے چوری کا پتہ لگ چکا ہے مگر پولیس کچھ نہیں کرتی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ وہ شیخ صاحب کو بھی مل لیں۔انہوں نے کہا کہ آج فرصت نہیں ، پھر وہ منگل کے دن یا اس کے بعد آ کر ملیں اور وعدہ کیا کہ میں کسی اعلیٰ افسر کو تحقیق کیلئے مقرر کر دوں گا۔مجھے اس کا اتنا خیال تھا کہ میں نے بعد میں خان صاحب سے دریافت بھی کیا کہ کیا شیخ صاحب جا کر ملے یا نہیں؟ جب انہوں نے کہا کہ نہیں تو میں نے شیخ صاحب سے جو مجھے باہر جب میں سیر کو جا رہا تھا مل گئے تھے کہا کہ آپ کیوں نہیں ملے اور جب انہوں نے کہا کہ اس نے منگل نہیں کہا تھا بلکہ منگل یا بعد کا کوئی دن کہا تھا تو پھر میں نے تاکید کی کہ بہت جلد ملنا مفید ہوگا۔پھر جب انہوں نے یہ کہا کہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ لوگ بعض اخلاقی الزامات کو درمیان میں لانا چاہتے ہیں ، تو میں نے ان سے کہا کہ مومن کو ان باتوں سے نہیں ڈرنا چاہئے ، الزام لگانے کے معنی ، الزام کے ثابت ہو جانے کے نہیں ہوتے ، آپ اس کی پروا نہ کریں اور دلیری سے پیروی کریں۔اگر وہ جھوٹ بولتے ہیں تو خود ہی ذلیل ہوں گے، آپ کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔چنانچہ وہ گئے اور پولیس کا ایک بڑا افسر تحقیقات کیلئے مقرر ہو گیا۔غرض اس کیس میں جو کامیابی ہوئی امور عامہ کے تعاون سے ہوئی اور امور عامہ نے میرے کہنے پر عمل کیا۔پھر دورانِ مقدمہ مجھے معلوم ہوا کہ جالندھر والے چوری کے سُراغ کو مٹا رہے ہیں۔اس پر پھر میں نے ان کو مشورہ دیا کہ ہماری جماعت کے فلاں فلاں افسر اس ضلع میں اثر رکھتے ہیں ان کو لکھا جائے کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس جالندھر سے کہیں کہ وہ خیال رکھیں کہ ان کے ماتحت افسر دوسروں کا لحاظ کر کے مقدمہ کو خراب نہ کریں۔مجھے اب اچھی طرح یاد نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ بعض کے نام شاید میں نے بھی اس بارہ میں خط لکھوائے مگر یہ یقینی ہے کہ میں نے کہا کہ انہیں میری طرف سے خط لکھے جائیں۔