انوارالعلوم (جلد 14) — Page 364
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ہمارے معنے تسلیم کرنے کی صورت میں یہ ترتیب بالکل درست رہتی ہے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں پڑتا۔طد عند کوئی پرندہ نہیں بلکہ انسان تھا طبس کا دوسرا کر حضرت سلیمان کے حالات کے بیان میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا تأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ اے لوگو! ہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہے۔اب یہاں بھی طیر سے مراد تمام قسم کے پرندے نہیں اس لئے کہ:۔(1) جس وقت ہر ہر کہیں جاتا ہے حضرت سلیمان سخت ناراض ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں لا عَذِبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْلَا أَذْبَحَنَّهُ أَوْلَيَأْ تِيَنِّى بِسُلْطَنٍ مُّبِينٍ یعنی بُرد چونکہ غائب ہے اس لئے جب وہ آیا تو میں اُسے سخت سزا دوں گا ، میں اُسے ذبح کر ڈالوں گا ورنہ وہ دلیل پیش کرے اور بتائے کہ کیوں غائب رہا۔اب بتاؤ کیا قرآن سے یہی پتہ لگتا ہے کہ پرندے ایسی عقل کے مالک ہیں کہ اگر ان سے کوئی قصور سرزد ہو تو آدمی تلوار لے کر کھڑا ہو جائے اور اُسے کہے کہ وجہ بیان کرو ورنہ ابھی تیرا سرکاٹ دوں گا۔یا کبھی تم نے دیکھا کہ تمہارا کوئی ہمسایہ ہد ہد کو پکڑ کر اُسے سوٹیاں مار رہا ہوا اور کہہ رہا ہو کہ میرے دانے تو کیوں کھا گیا ؟ اور اگر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھو تو کیا تم اُسے پاگل قرار نہیں دو گے؟ پھر وہ لوگ جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف یہ امر منسوب کرتے ہیں کہ انہوں نے ہد ہد کے متعلق یہ کہا وہ اپنے عمل سے یہی فتویٰ حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی لگاتے ہیں بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام تو یہاں تک کہتے ہیں کہ میں اُسے سخت ترین سزا دوں گا اَوْلَيَأْتِيَنِى بِسُلْطنٍ مُّبِينٍ ورنہ وہ ایسی دلیل پیش کرے جونہایت ہی واضح اور منطقی ہو۔گویا وہ بد بد ، سقراط ، بقراط اور افلاطون کی طرح دلائل بھی جانتا تھا اور حضرت سلیمان اس سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے دلائل پیش کرے گا۔(۲) پھر قرآن تو یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس جنوں ، انسانوں اور طیر کے لشکر تھے۔مگر حضرت سلیمان کی نظر صرف ہد ہد کی طرف جاتی ہے اور فرماتے ہیں مَالِی لَا أَرَى الْهُدَهُدَ کیا ہوا کہ اس لشکر میں ہد ہد کہیں نظر نہیں آتا۔حکومت کے نزدیک تو جس کا قد پانچ فٹ سے کم ہو وہ فوج میں بھرتی کے قابل نہیں سمجھا جاتا مگر حضرت سلیمان نے یہ عجیب بھرتی