انوارالعلوم (جلد 14) — Page 333
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ایسی ہی راہنمائی کرے گا جس طرح ستارے راہنمائی کرتے ہیں۔اب یہ ایک وسیع مضمون تھا جو بھائی کہہ کر ادا نہیں ہوسکتا تھا مگر ستارے کہہ کر ادا ہو گیا۔چوتھے تقریب مضمون کیلئے بھی استعارہ ضروری ہوتا ہے۔یعنی بعض دفعہ مضمون اتنا وسیع ہوتا ہے کہ انسان اُسے سمجھ نہیں سکتا جب تک کسی خاص طریق سے اُسے ذہن کے قریب نہ کر دیں۔مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے تو اس پر بچہ پوچھتا ہے کہ کتنی محبت کرتا ہے؟ تو اگر ہم اُسے کہہ دیں کہ ماں سے بھی زیادہ تو وہ فوراً بات سمجھ جائے گا۔حالانکہ ماں کی محبت اور خدا تعالیٰ کی محبت میں کوئی نسبت ہی نہیں۔اسی لئے بعض مذاہب نے یہ کہہ دیا ہے کہ خدا ماں ہے، خدا باپ ہے۔کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کو سمجھ ہی نہیں سکتا تھا جب تک استعارہ کے رنگ میں اسے ادا نہ کیا جائے۔تو استعارہ اور تشبیہہ نہایت ضروری چیز ہے اور کلام کا ویسا ہی اہم جزو ہے جیسے اور الفاظ اور اسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جا سکتا۔جہاں سعت مضمون ہوگی اور جہاں تھوڑے الفاظ میں مضامین کا ادا کرنا ناممکن ہوگا وہاں استعارہ ہی استعمال کرنا پڑے گا۔بلکہ خود الفاظ بھی ایک قسم کا استعارہ ہی ہیں۔مثلاً جب ہم گھوڑا کہتے ہیں تو یہ خود ایک استعارہ ہوتا ہے۔ورنہ گھ و ڑ اور الف کا گھوڑے سے کیا تعلق ہے؟ پس ھو یہ ایک تشبیہہ اور استعارہ ہے جو انسانی کلام میں تجویز کیا گیا۔ورنہ اگر گھوڑے کی تشریح کی جاتی تو بڑی مشکل پیش آ جاتی۔جیسے مشہور ہے کہ کوئی حافظ صاحب تھے جنہوں نے کبھی کھیر نہیں کھائی تھی۔ایک دن کسی نے اُن کی دعوت کی اور شاگرد نے آ کر بتایا کہ آج اُس نے کھیر پکائی ہے۔وہ کہنے لگے کھیر کیا کھانا ہوتا ہے؟ اُس نے بتایا کہ میٹھا میٹھا اور سفید سفید ہوتا ہے۔اب حافظ صاحب نے چونکہ رنگ بھی کبھی نہ دیکھے تھے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ سفید رنگ کس طرح کا ہوتا ہے؟ شاگرد کہنے لگا بنگلے کی طرح ہوتا ہے۔حافظ صاحب پوچھنے لگے بگلا کس طرح کا ہوتا ہے؟ اس پر شاگرد نے ہاتھ کی شکل بنگلے کی طرح بنائی اور اُس پر حافظ صاحب کا ہاتھ پھیر دیا۔حافظ صاحب نے فوراً شور مچادیا اور کہنے لگے جاؤ جاؤ میں ایسی دعوت میں شریک نہیں ہو سکتا۔یہ کھیر تو میرے گلے میں اٹک کر مجھے مار ڈالے گی۔یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ بگلے سے فلاں چیز مراد ہے ، گھوڑے سے فلاں چیز مراد اور گدھے سے فلاں چیز تو کوئی گھوڑے کو گدھا سمجھے گا اور بھینس کو گھوڑا۔پس استعارہ انسانی کلام کا ایک ضروری جزو ہے اور اسے کسی صورت میں بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔