انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxiii

انوار العلوم جلد ۱۴ لم مضامین ہوتے ہیں جنہیں نہ سمجھنے کے نتیجہ میں لوگ ٹھوکریں کھا جاتے ہیں۔تعارف کنند فرمایا: الہامی کتب کی ترتیب عام کتابوں سے ہٹ کر مختلف ہوتی ہے اسے سمجھے بغیر قرآن کا عرفان حاصل نہیں ہو سکتا۔عام کتب کی ترتیب مضامین کے اعتبار سے ہوتی ہے مثلاً نماز کا ایک الگ باب باندھا جاتا ہے روزے کا الگ مگر قرآن کی ترتیب ایسی نہیں۔اس نرالی ترتیب کی بہت سی حکمتیں ہیں۔مثلاً :۔(۱) تاکہ سارے کلام میں دلچسپی پیدا ہو۔(۲) تاخشیت الہی پیدا ہو۔(۳) تا کہ غور و فکر کی عادت ہو۔اس لئے قرآن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اسے بار بار پڑھنا چاہئے اور اس یقین سے پڑھا جائے کہ اس کے اندر غیر محدود خزانے ہیں۔فرمایا ہر زبان میں تشبیہہ اور استعاروں کا استعمال موجود ہے۔ہر اعلیٰ علمی کتاب میں تشبیهات و تمثیلات بیان ہوتی ہیں۔جنہیں نہ سمجھنے کے نتیجہ میں انسان غلطی کرتا اور ٹھوکر کھاتا ہے۔مثلاً آنحضور نے عورتوں کو نوحہ کرتے دیکھ کر فرمایا ” ان کے سر پر مٹی ڈالو اس پر ایک صحابی سچ سچ مٹی ڈالنے لگے۔جس پر حضرت عائشہ نے اُسے ڈانٹ دیا کہ حضور کی مراد تو یہ تھی کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔فرمایا استعارے کے بہت سے فوائد ہیں جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے مثلاً (۱) اس سے اختصار پیدا ہوتا ہے۔(۲) لمبے مضامین چھوٹے سے فقرہ میں سما جاتے ہیں۔(۳) اس سے وسعت نظر پیدا ہوتی ہے۔(۴) بعض دفعہ مضمون کو اونچا کرنے اور نظر کو وسیع کرنے کے لئے استعارہ لانا پڑتا ہے (۵) اور بعض دفعہ وسیع مضمون کو قریب کرنے کے لئے۔پس استعاروں کے بغیر بعض مضامین بیان ہی نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم اپنے استعاروں کو خود حل کرتا ہے وہ یہ اصول بتاتا ہے کہ اس کی بعض آیات محکمات ہیں اور بعض متشابہات ، متشابہات کو محکمات کے تابع رکھ کر حل کیا جائے گا ورنہ اختلاف پیدا ہوگا جبکہ قرآن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔آنحضور ﷺ نے نصیحت فرمائی ہے کہ گزشتہ قوموں کی طرح کتاب میں اختلاف نہ کرنا