انوارالعلوم (جلد 14) — Page 273
انوارالعلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ دعا اور توکل علاوہ از یں دعا ایک سہارا اور ایک سواری ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ میں ہر ایک طاقت کے سلب کر لینے کی قدرت بھی ہے اس لئے دعا کے ذریعہ ہر وقت اُس کی حفاظت واعانت طلب کرتے رہنا چاہئے۔اور اگر انسان کے پاس کچھ بھی نہیں اور اُس کو ہزاروں لاکھوں روپوں کی ضرورت پڑ گئی ہے تب بھی وہ یہ کہے گا کہ پروا نہیں میرا خدا میری اس ضرورت کو پورا کر دے گا اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سے ایک دفعہ کوئی شخص اپنا قرضہ لینے آیا آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔اس نے جانے کیلئے اصرار کیا۔آپ نے فرما یا ٹھہر وتب ایک مریض باہر سے آیا اور ایک تھیلی ساتھ لایا۔وہ تھیلی بند کی بند لیکر قرض خواہ چلا گیا۔کسی نے پوچھا۔کیا ان روپوں کو تم نے رکن لیا ہے۔اس نے کہا۔اس میں پورے ہی روپے ہیں میں نے دیکھ لئے تھے۔تو خدا تعالیٰ مومن سے ایسا سلوک بھی کیا کرتا ہے۔اسی طرح ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے۔ان کو کسی نے ایک پڑیا ہد یہ میں دی۔انہوں نے وہ واپس کر دی کہ یہ میری نہیں کیونکہ میری ضرورت سے آٹھ آنہ اس میں کم ہیں۔تب اُس پیش کرنے والے نے کہا میں بُھول گیا ایک اور شخص نے بھی ہدیہ دیا تھا اور پھر اُس میں آٹھ آنے زیادہ کر دیے۔تب اُس بزرگ نے اسے لے لیا اور کہا۔اب یہ رقم میری ہے کیونکہ مجھے اسی قدر رقم چاہئے تھی جو خدا نے دیدی۔تو عارف کو بر وقت امدا د مل جایا کرتی ہے۔ایک کروڑ پتی مومن کروڑوں روپیہ کی موجودگی میں بھی ڈرے گا کہ اگر خدا تعالیٰ ان کو لے لے تو یہ کیا چیز ہے۔اور اگر مومن فقیر ہوگا اور اُس کو کروڑ کی ضرورت پڑے گی تو وہ کہے گا یہ رقم موجود ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی قدرت پر نظر رکھے گا۔غرض ایک کروڑ پتی کی دعا بھی اسی طرح چلتی رہے گی جس طرح ایک فقیر کی۔ورنہ ایک امیر کو جس قد ر نعمت ملے گی اتنا ہی اس کا دعا کا خانہ کم ہوتا جائے گا حالانکہ خدا تعالیٰ دنیا تو مومن کو بطور انعام دیا کرتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے حضور کچھ آدمی اونٹوں پر سفر کر کے حاضر ہوئے لیکن وہ اونٹوں سے اتر کر اتنی جلدی آپ کے پاس پہنچے کہ اس عرصہ میں اونٹوں کو باندھا نہیں جا سکتا تھا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اونٹوں کا کیا کر آئے ہو۔وہ کہنے لگے حضور ان کو خدا کے تو کل پر چھوڑ آئے ہیں۔حضور نے فرمایا۔جاؤ اور اُن کے گھٹنے باندھوا اور پھر تو کل کر کے آؤ۔غرض دعا کا عملی حصہ تو تکل کہلاتا ہے اور دعا بھی سامانوں کی موجودگی میں استعمال اسباب کے ساتھ ملکر رنگ دکھایا کرتی ہے لیکن جہاں خدا تعالیٰ نے کوئی نشان دکھانا ہوتا