انوارالعلوم (جلد 14) — Page 255
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم اہم ہدایات تسلیم نہیں کر سکتا۔کیا جس چیز کیلئے انتظار کا لفظ استعمال کیا جائے وہ دوبارہ نہیں آیا کرتی ؟ قرآن کریم ہمیشہ بتاتا ہے کہ کوئی چیز دائمی نہیں ، خدائی سلسلہ اور روحانیت بھی دائمی نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ کا نام قابض اور باسط ہے۔پس قبض کا آنا بھی ضروری ہے اور بسط کا آنا بھی ضروری ہے جیسا کہ رات کا آنا بھی ضروری ہے اور دن کا آنا بھی ضروری ہے۔اگر سورج نے ایک ہی دفعہ چڑھنا ہوتا تو پھر ہمیشہ کیلئے تاریکی ہو جاتی لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ بار بار سورج چڑھاتا ہے۔مگر وہ شخص جو سورج کی موجودگی میں کسی اور سورج کا انتظار کرتا ہے وہ بیوقوف ہے۔اسی طرح وہ شخص جو اس وقت قدرت ثانیہ کا انتظار کرتا ہے وہ احمق اور گدھا ہے۔قدرت ثانیہ آئی اور اس کا ظہور ہوا مگر افسوس کئی لوگ ہیں جنہوں نے اس کو شناخت نہیں کیا۔میں دنیا کے ہر مقدس سے مقدس مقام پر کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں که قدرت ثانیہ کا جو ظہور ہونا تھا وہ ہو چکا اور وہی ذریعہ ہے آج احمدیت کی ترقی کا۔میں بتا چکا ہوں کہ اس سکیم میں بعض چیزیں عارضی ہیں۔پس عارضی چیزوں کو میں بھی مستقل قرار نہیں دیتا لیکن باقی تمام سکیم مستقل حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے القاء کے نتیجہ میں مجھے سمجھائی گئی ہے۔میں نے سکیم کو تیار کرنے میں ہر گز غور اور فکر سے کام نہیں لیا اور نہ گھنٹوں میں نے اس کو سوچا ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی کہ میں اس کے متعلق خطبات کہوں۔پھر ان خطبوں میں میں نے جو کچھ کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر جاری کیا کیونکہ ایک منٹ بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں کیا کہوں۔اللہ تعالیٰ میری زبان پر خود بخود اس سکیم کو جاری کرتا گیا اور میں نے سمجھا کہ میں نہیں بول رہا بلکہ میری زبان پر خدا بول رہا ہے اور یہ صرف اس دفعہ ہی میرے ساتھ معاملہ نہیں ہوا بلکہ خلافت کی ابتدا سے خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہی معاملہ ہے۔میں نے قرآن شریف کی شاید پانچ ، سات یا دس آیات پر ان کے معانی معلوم کرنے کیلئے ایسا غور کیا ہوگا جسے لوگ غور کہتے ہیں ورنہ ان آیات کو مستقلی کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم پر کبھی غور نہیں کیا اور اگر قرآن کریم کے مطالب معلوم کرنے کیلئے اس پر غور کرنا نیکی ہے تو میں اس نیکی سے قریباً محروم ہی ہوں کیونکہ قرآن کریم کی آیات کے معانی کے متعلق ہمیشہ مجھ پر القاء ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا مفہوم مجھ پر کھول دیتا ہے اور جس چیز کو میں خود نہیں سمجھ سکتا اللہ تعالیٰ آپ ہی آپ مجھے سمجھا دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ اب یوں کہو اور اب یوں کہو۔غرض قرآنی معارف کے متعلق مجھے کبھی غور کرنے کی ضرورت