انوارالعلوم (جلد 14) — Page 254
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایا۔کہ اُن کی زندگی میں قوم کی زندگی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ ٹیکے ہیں جن کے لگنے سے قوم کے جسم سے بیماری دُور ہوتی ہے اور اگر یہ لوگ مر گئے تو دنیا بھی مر جائے گی۔پس مرنے والے کسی قوم کی زندگی کا ثبوت نہیں ہوتے بلکہ وہ زندہ رہنے والی قوم کی زندگی کا ثبوت ہوا کرتے ہیں جو ہر وقت مرنے کیلئے تیار ہوں۔تحریک جدید کو جاری کرنے کی غرض بھی یہی ہے کہ تم میں زندگی پیدا ہو۔مرنے والے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دیں اور جو باقی رہیں وه مِنْهُمْ مَّنْ يَنتَظِرُ کا مصداق بنتے چلے جائیں۔جس دن ہم اس قسم کے زندہ لوگ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہی دن ہماری زندگی کا دن ہوگا اور نہ اگر مرنے والا مر گیا اور اُس نے انفرادی طور پر جان دے دی تو اس سے قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری تحریک جدید کے افسروں اور اس کے باقی کارکنوں پر ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت نے اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ممکن ہے ایک دو فیصدی سمجھے ہوں لیکن جماعت پر ایک عام نظر ڈالنے سے مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اس تحریک کو ۵، ۶ فیصدی لوگوں سے زیادہ نے نہیں سمجھا حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ سو فیصدی لوگ اسے سمجھنے والے موجود ہوتے۔بعض نے تو یہ سمجھا کہ مخالفت کی چونکہ اُس وقت ایک زبر دست ر و اٹھی تھی اس لئے اُس کے مقابلہ کے لئے ایک عارضی سکیم جاری کی گئی تھی حالانکہ وہ تو خدا تعالیٰ نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے ایک وقت پیدا کیا تھا۔ہر نئی چیز کو پیش کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ ہو ا کرتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مدینہ گئے تو اس لئے نہیں کہ کفار کو اُن کے کئے کی سزا دیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے ازل سے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ آپ مدینہ جاتے اور پھر کفار سے لڑائیاں ہوتیں اس لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے مدینہ جانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا کہ ابھی کئی باتیں ایسی ہیں جو میں تم پر ظاہر نہیں کر سکتا مگر جب وقت آئے گا تو تم پر ظاہر ہو جائیں گی بالکل اسی طرح جس طرح حضرت مسیح نے کہا۔وہ وقت آیا مگر پھر بھی بہت سے نادانوں نے اسے نہیں سمجھا۔کئی پاگل اور مجنون ابھی تک ایسے ہیں جو قدرتِ ثانیہ کے منتظر ہیں اور انہوں نے نہیں سمجھا کہ قدرت ثانیہ تو آچکی اور قدرت ثانیہ کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ وہ ہمیشہ آیا کرتی ہے۔کیا خدا تعالیٰ کا سورج ایک دفعہ چڑھتا ہے اور پھر نہیں چڑھتا ؟ پھر کیسا نادان ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ میں ابھی سورج کے چڑھنے کا منتظر ہوں۔جب تک کل والا سورج نہیں چڑھے گا میں آج کے سورج کے وجود کو