انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 186

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سکھنے کی کوشش کی جائے جس کو ہم جو لاہا کہتے ہیں۔پھر پہنے کیلئے مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً کپڑے کے علاوہ جرا ہیں ، سویٹر وغیرہ۔یہ سب چیزیں اسی پیشہ کے اندر آ جاتی ہیں اور وہ سب اشیاء جن کا کپڑے کے ساتھ تعلق ہو گا سب کی سب اس پیشہ سے متعلق ہوں گی تیسرا پیشہ معماری ہے کیونکہ عناصر میں جو طوفان پیدا ہوتے ہیں ان کے اثرات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان مکان بنائے۔یا ایک دوسرے کے ضرر سے بچنے کیلئے مثلاً چور یا حملہ آور سے محفوظ رہنے کیلئے مکان ضروری ہے۔پس تیسری چیز معماری ہے چوتھا پیشہ جو اصولی حیثیت رکھتا ہے وہ لوہاری کا کام ہے۔بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی انسان کو ضرورت پیش آتی ہے یا خود انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی حاجت ہوتی ہے۔اس کیلئے مثلاً گاڑیاں ، موٹریں، سائیکل یا ریل گاڑیاں کام میں لائی جاتی ہیں۔ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور انسانی کاموں میں سہولت پیدا کرنے کیلئے یہ دو پیشے ہیں۔ایک لوہار کا کام دوسرا ترکھان کا کام۔یہ زراعت میں مفید ہونے کے علاوہ باقی بہت سے کاموں کیلئے بھی نہایت ضروری ہیں۔اور انسان کے عام مشاغل کو بھی سہل بناتے ہیں۔پھر عِلمُ الابدان میں وہ چیز بھی آ جاتی ہے جس کو لوگوں نے مقدم رکھا ہے۔یعنی علم کیمیا اور علم طب، علم طب بھی انسانی علاج کو سہل کر دینے والی چیز ہے تو گویا زراعت ، معماری ، لوہاری، نجاری ، علم کیمیا ، علم طب، اور علم طب در اصل ایک لحاظ سے علم کیمیا ہی کی ایک شاخ ہے۔اور کپڑا بننے کا کام یہ سات پیشے ہوئے۔باقی تمام پیشے انہی کے اندر آ جاتے ہیں۔مثلاً دوسرے کام پینٹنگ وغیرہ معماری کی بھی ایک شاخ ہے اور علم کیمیا کی بھی۔چمڑے کا کام اس کے علاوہ ہے۔تو اسے ملا کر گویا آٹھ پیشے ہوئے۔ان آٹھ پیشوں کو جو قوم جان لیتی ہے وہ اپنی ضروریات کیلئے دوسری کی محتاج نہیں رہتی۔بشرطیکہ وہ ان پیشوں کو اس رنگ میں جانتی ہو جیسا کہ جاننے کا حق ہے۔یہ نہیں کہ ایک کام سیکھ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ بس اب کام ختم ہو گیا۔اور اب اس میں ترقی کرنے کی ضرورت نہیں۔وٹرنری کا علم یعنی حیوانوں اور جانوروں وغیرہ کا پالنا اور ان کا علاج بھی عِلْمُ الْأَبْدَان ہی سے تعلق رکھتا ہے۔یہ علم اور نرسنگ وغیرہ کا علم طب کے نیچے آ جائیں گے۔پس جتنے بھی علوم ہیں وہ سب انہی آٹھ پیشوں کے اندر محصور ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض یا تو زراعت سے تعلق رکھتے ہوں گے۔یا چمڑے کے کام سے تعلق رکھتے ہوں گے۔یا معماری کے کام سے