انوارالعلوم (جلد 14) — Page 174
انوارالعلوم جلد ۱۴ حقیقت حال کہ صبر واستقلال سے کام لیتے ہوئے اگر صدر و دیگر عہدہ داران کشمیر ایسوسی ایشن نے جد وجہد کو جاری رکھا تو وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔إِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔۳ انگلستان و دیگر ممالک میں پھر اس مسئلہ کی طرف لوگوں کی توجہ کو پھر ا نا۔اس کام کو میں بآسانی کر سکتا ہوں اور اِنشَاءَ اللہ پوری طرح ایسوسی ایشن سے تعاون کروں گا۔کلینسی رپورٹ کے خلاف جو باتیں ہوں، ان کو احسن طریق پر حکومتِ ہند اور حکومت برطانیہ کے سامنے رکھنا۔اس کام میں بھی ایسوسی ایشن نہایت مفید بلکہ کامیاب مدد دے سکتی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایسا کرے گی۔۵۔چونکہ کا نفرنس عملاً بند پڑی ہے۔بعض طلباء جن کو کتابوں وغیرہ کی امداد دی جاتی تھی ، حیران پھر رہے ہیں اسی طرح اور کئی مستحقین بے سروسامانی کی حالت میں ہیں، ان کی مالی امداد کرنا۔اس بارہ میں بھی ایسوسی ایشن اچھا کام کر سکتی ہے اور انشاء اللہ کرے گی۔سر دست طلباء کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تین سو کی رقم اپنی طرف سے منظور کی ہے جس سے مستحق طلباء کو امداد دی جائے گی۔اس کیلئے مولوی عبدالاحد صاحب ،مسٹر غلام نبی صاحب گلکار، مولوی عبد اللہ صاحب وکیل ، خواجہ صدرالدین صاحب اور میر مقبول شاہ صاحب کی سب کمیٹی میں تجویز کرتا ہوں۔اگر ان میں سے کسی کو اس سب کمیٹی میں کام کرنا منظور نہ ہو، تو باقی ممبر مل کر کام کریں اور فورا مستحق طلباء کی درخواستوں پر غور کر کے کتب وغیرہ کی امداد دیں۔مولوی عبد الاحد صاحب ہمارے مبلغ ہیں اور سیاسی کاموں سے الگ رہتے ہیں لیکن چونکہ یہ کام سیاسی نہیں بلکہ تعلیمی اور تمدنی ہے میں نے اس کمیٹی میں ان کو ممبر مقر ر کیا ہے۔آخر میں میں پھر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ قانون کے اندر رہ کر استقلال سے کام کریں۔جس طرح رات ہمیشہ نہیں رہتی آپ لوگوں کی تکالیف بھی ہمیشہ نہیں رہیں گی ، آخر کامیابی کا دن چڑھے گا۔اور وہ دن انہی کیلئے مبارک ہوگا جنہوں نے اس وقت قومی کام کیلئے قربانیاں کی ہیں۔دوسرے لوگوں کا منہ اُس دن کالا ہو گا اور اپنی شرمندگی اور ندامت کو چھپانے کا کوئی ذریعہ انہیں نہیں ملے گا۔پس اے بھائیو! ہمت کرو اور صبر سے کام لو اور استقلال سے قانون کے اندر رہتے ہوئے کام کرتے چلے جاؤ کہ خدا تعالیٰ کی مدد ظالم کے ساتھ نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔اپنی بے بسی اور بے کسی کو نہ دیکھو، اپنے خدا کی طرف دیکھو جو بے بسوں اور بیکسوں کا یار ہے۔وہ خود آپ کیلئے لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کر