انوارالعلوم (جلد 14) — Page 168
حقیقت حال انوار العلوم جلد ۱۴ (۲) دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ پارلیمنٹ میں کشمیر کے متعلق سوال کرائے اور ذمہ دار لوگوں سے ملاقاتیں کیں چنانچہ لیڈی ندر لینڈ کے اخراج کے متعلق پارلیمنٹ میں سوال کرایا گیا اور بعض سوال موجودہ حالات کشمیر کے متعلق کرائے گئے۔ایک اشتہار کشمیر کے حالات کے متعلق بڑے بڑے لوگوں میں حال میں شائع کیا گیا ہے اور بہت سے پارلیمنٹ کے ممبروں نے امداد کا وعدہ کیا ہے اور پارلیمنٹ میں سوال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی کے معمولی ممبر ہونے کی حیثیت سے در د صاحب اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے اور جو کچھ وہ کر سکتے تھے اس سے انہوں نے دریغ نہیں کیا۔میں نے ہندوستان میں جو کام کیا وہ یہ ہے۔(۱) مقدمات میر پور کی پیروی جس پر ہزاروں روپیہ خرچ ہوا۔(۲) موجودہ فسادات میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ، ان کے متعلق بھی جد وجہد کی گئی ہے۔چنانچہ مولوی عبداللہ صاحب سیا کھوی کے رشتہ داروں کی تحریک پر ان کیلئے ایک لائق وکیل کا انتظام کیا گیا ہے جو ان کے مقدمہ کی اپیل کرے گا۔(۳) بعض قیدیوں کی رہائی کیلئے کوشش کی گئی۔(۴) میر واعظ صاحب ہمدانی مجاورین خانقاہ میر مقبول شاہ صاحب اور دیگر بہت سے احباب کے متعلق جو نا واجب احکام جاری ہوئے تھے ، ان کے منسوخ کرانے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے کچھ حصہ میں ہمیں کامیابی ہوئی ہے، بقیہ کیلئے کام ہور ہا ہے۔(۵) ہر ایسیلینسی وائسرائے بہادر کے پرائیویٹ سیکرٹری اور پھر خود حضور وائسرائے کے پاس میں نے مفتی محمد صادق صاحب کو بھیج کر مظالم کشمیر کے دور کرنے کی طرف توجہ دلوائی اور ہز ایکسیلینسی کے کہنے پر کہ مسٹر کالون سے بھی ہمارے آدمی ملیں وہ ضرور توجہ کریں گے۔سید زین العابدین صاحب کو جموں دو دفعہ بھجوایا اور ایک دفعہ دہلی جہاں وہ مسٹر کالون، مسٹر سیلینیسی وزارت حسین اور مسٹر بیل سے ملے اور موجودہ حالات کو بدلوانے کیلئے پوری سعی کی۔۔(۶) اس کے بعد میں نے عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ وہ پیزا وائسرائے سے ملاقات کے موقع پر کشمیر کے متعلق بھی تذکرہ کریں۔چنانچہ انہوں نے ان امور کے متعلق وائسرائے ہند سے گفتگو کی۔( ۷ ) جو لوگ جلا وطن کئے گئے ہیں یا جن کو کشمیر میں نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، ان