انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 115

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت سیر کیلئے نہیں جاتے۔آپ نے فرمایا وہ تو روز جاتے ہیں۔اس پر آپ کو بتایا گیا کہ وہ سیر کیلئے ساتھ تو چلتے ہیں لیکن پھر بڑ کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور واپسی پر پھر ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ سیر میں رکھتے اور جب آپ نے تیز ہو جانا اور حضرت خلیفہ اول نے بہت پیچھے رہ جانا تو آپ نے چلتے چلتے ٹھہر جانا اور فرمانا مولوی صاحب فلاں بات کس طرح ہے۔مولوی صاحب تیز تیز چل کر آپ کے پاس پہنچتے اور ساتھ چل پڑتے۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آگے نکل جاتے۔تھوڑی دُور جا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہر جاتے اور فرماتے مولوی صاحب ! فلاں بات اس اس طرح ہے۔مولوی صاحب پھر تیزی سے آپ کے پاس پہنچتے اور تیز تیز چلنے کی وجہ سے ہانپنے لگ جاتے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔تمیں چالیس گز چل کر پھر مولوی صاحب پیچھے رہ جاتے اور آپ پھر کوئی بات کہہ کر مولوی صاحب کو مخاطب فرماتے اور وہ تیزی سے آپ سے آکر مل جاتے۔آپ کی غرض یہ تھی کہ اس طرح مولوی صاحب کو تیز چلنے کی عادت ہو جائے۔یہ صرف تیز چلنے کی مشق نہ ہونے کا نتیجہ تھا کہ مولوی صاحب آہستہ چلتے۔چونکہ طب کا پیشہ ایسا ہے کہ اس میں عموماً انسان کو بیٹھا رہنا پڑتا ہے اور اگر باہرکسی مریض کو دیکھنے کیلئے جانے کا اتفاق ہو تو سواری موجود ہوتی ہے اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کو تیز چلنے کی مشق نہ تھی۔ورنہ اخلاص آپ میں جس قد ر تھا ، اس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔چہ خوش بو دے اگر ہر یک ز اُمت نورد میں بودے لیکن مشق نہ ہونے کی وجہ سے، منافق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ چل سکتے تھے حضرت مولوی صاحب نہیں چل سکتے تھے تو جب تک کسی کام کی مشق نہ کی جائے کبھی وقت پر آ کر وہ کام نہیں ہوسکتا۔اسی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ اگر جماعت مختلف قسم کی قربانیوں کیلئے تیار نہیں رہے گی اور قربانیوں کا اس پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا تو مشکلات آنے پر اخلاص صرف مشغلہ بن کر رہ جائے گا، سلسلہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔پس میں نے ضروری سمجھا کہ ایسی قربانیوں کی عادت ڈالی جائے جو جسمانی آرام و آسائش پر اثر رکھنے والی ہوں۔مثلاً میں نے کہا اپنے وطن کی قربانی کرو اور غیر ممالک میں اعلاء کلمہ اسلام کیلئے نکل جاؤ۔اس کا علاوہ تبلیغ اسلام کے یہ بہت بڑا فائدہ ہوگا کہ اگر کسی وقت جماعت کو اپنے وطن چھوڑنے پڑے تو وہ