انوارالعلوم (جلد 14) — Page 46
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔مِنْ ذَالِکَ ) منافق ہو گئے تھے۔لَقَدْ نَافَقَا قَبْلَ ذَالِكَ وَرَدًّا عَلَى اللَّهِ ۚ تَو اب ایک غیرت مند مسلمان سوائے اس کے کیا کہ سکتا ہے کہ احرار کے سیکرٹری کا یا اس کی جماعت کا خواہ کچھ مذہب ہو۔ہم پر قرآن کریم حجت ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔تو ایسی خرافات کو ہم غلط سمجھتے ہیں اور اسی طرح جب قرآن کریم السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ کی تعریف کرتا ہے اور انہیں ہمارے لئے نمونہ قرار دیتا ہے تو جو شخص بُرا کہتا ہے وہ اسلام کے خلاف کہتا ہے۔اور چونکہ قرآن کریم کے ہوا اور اس قول کے سوا جو رسول کریم ﷺ سے صلى الله ثابت ہوا اور کوئی قول مسلمانوں پر حجت نہیں اس لئے ہم ان حوالوں کو کوئی وقعت نہیں دیتے۔تو اب بتائیں کہ کیا اس کے یہ معنی ہونگے کہ ایسا شخص سب ائمہ اسلام کو قرآن کریم کے خلاف چلنے والا کہتا ہے۔بہر حال جب سلسلہ احمدیہ کی خصوصیات کا ذکر ہوگا تو حجت صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں ہوں گی۔باقی باتوں سے ہم اختلاف کر سکتے ہیں۔پس جو کچھ میں نے لکھا درست لکھا اور اظہر صاحب کا اعلان محض فساد اور لوگوں کو بھڑ کانے کی نیت سے ہے۔آخر میں میں پھر مسلمانوں کے فہمیدہ طبقہ سے اپیل کرتا ہوں کہ احرار کو مجبور کریں کہ وہ شرائط کا تصفیہ کر کے مسلّمہ فریقین تاریخ پر احمدیوں سے مباہلہ کریں اور اس قسم کی اشتعال انگیزی اور غلط بیانی سے پر ہیز کریں جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے تاحق اور باطل میں فرق ہوا اور خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔آمین وَاخِرُ دَعُونَا أن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرز امحمو د احمد (خلیفہ اسیح الثانی امام جماعت احمدیہ ) ۷۔نومبر ۱۹۳۵ء القلم : ۵ (الفضل ۱۰ نومبر ۱۹۳۵ء ) فروع کافی جلد ۳ کتاب الروضۃ صفحه ۶۱ ۶۲ مطبوعہ ۱۸۸۶ء الحجر : ١٠