انوارالعلوم (جلد 14) — Page 43
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔احمدی کی نہ ہوں۔کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہوسکتی۔“ (الفضل مطبوعہ ۶/اکتوبر ) اس فقرہ کو نقل کر کے مسٹر مظہر علی صاحب اظہر لکھتے ہیں کہ:۔اس عبارت میں مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ان کی اور ان کے بھائیوں اور متبعین کی تحریروں میں توہین رسول کریم ﷺ اور تو ہین مکہ معظمہ و مدینہ منورہ موجود ہے۔چونکہ مرزا صاحب نے اقبال جرم کر لیا ہے اس لئے ہم نے انہیں مجبور نہیں کیا۔( مجاہد ۱۵ اکتو بر صفحہ ۷ کالم ۳) میرا پہلا جواب تو اس کے متعلق یہ ہے کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اور یہ کہ اگر اس عبارت سے یہ مطلب نکلتا ہو یا میرے دل میں کوئی ایسی بات ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔اگر مسٹر مظہر علی صاحب میں کوئی تخم دیانت باقی ہے اور انہوں نے صحیح سمجھ کر یہ فقرات لکھے ہیں تو کیا وہ جرات کریں گے کہ وہ بھی ایک اعلان کر دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس فقرہ کا یہی مطلب ہے کہ مرزا محمود احمد اور اس کے بھائی اور جماعت احمد یہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کیا کرتی ہے اور اس میں اقبال جرم ہے۔اور اگر میں اس بیان میں لوگوں کو دھوکا دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر لعنت نازل ہو۔اظہر صاحب کے لئے اس قسم کی لعنت کا اعلان کرنا بڑی بات نہیں کیونکہ وہ جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے نزدیک حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ پر لعنت بھیجنا بھی کا ثواب سمجھا جاتا ہے۔اگر اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے انہوں نے لعنت طلب کر لی جس کا طلب کرنا ان پر واجب ہو گیا ہے تو یہ انہیں زیادہ گراں نہیں گزرنا چاہئے۔مظہر علی صاحب نے تحریف کی دوسرا جواب میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اس فقرہ میں تحریف کی ہے۔میرا اصل فقرہ یہ ہے۔اظہر صاحب نے اپنی سہولت کے لئے اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔اور پھر ان کی غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔لیکن بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہوسکتی۔“ ( الفضل مطبوعہ ۶/ اکتوبر ) ناظرین دیکھیں کہ مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے کس طرح تحریف سے کام لیا ہے۔ایک