انوارالعلوم (جلد 14) — Page 25
انوار العلوم جلد ۱۴ مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق نا پسندیدہ رویہ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ تحریر فرموده ۳۰۔اکتوبر ۱۹۳۵ء) برادران! ایک عرصہ سے مجلس احرار کے عہدہ دار اور ان کے مبلغ ، جماعت احمدیہ کے خلاف طرح طرح کے بہتان لگا رہے ہیں اور نا واقف لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔مثلاً وہ لوگوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ بانی سلسلہ احمدیہ نے رسول کریم ﷺ کی تک کی ہے اور وہ اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ سے بڑا سمجھتے تھے ، اور جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے۔اسی طرح وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک قادیان کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر فضیلت حاصل ہے اور احمدیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔بلکہ خاک برہمن دشمن۔اگر ان مقدس مقامات کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی جائے تو احمدی خوش ہوں گے۔جب احرار کی اس قسم کی بہتان تراشی حد سے بڑھ گئی اور باوجود بار بار توجہ دلانے کے وہ باز نہ آئے تو میں نے احرار کو چیلنج دیالے کہ وہ احرار کے پانچ سو ایسے نمائندے جنہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہو۔پیش کریں، جو جماعت احمدیہ کے پانچ سو نمائندوں سے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہو گا کہ وہ ان کی تعلیم کے متعلق یقین سے قسم کھا سکیں ، مباہلہ کر لیں تا کہ حق اور باطل میں امتیاز ہو سکے۔مباہلہ اس امر پر ہو گا کہ احرار کے نمائندے اپنا الزام دُہرائیں گے کہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت ، رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں کرتی اور احمد یہ جماعت کے عقائد کی رو سے بانی سلسلہ احمد یہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ آنحضرت ﷺ سے افضل تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے قادیان کو جماعت احمدیہ زیادہ