انوارالعلوم (جلد 14) — Page 556
مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر انوار العلوم جلد ۱۴ کانوں میں اُنگلیاں ڈال لیں اور شور مچا دیا کہ ان کی بات نہ سنو اور مرنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔آخر لڑائی ہوئی اور کثرت سے خوارج مارے گئے جن میں ان کا لیڈر عبداللہ بن وہب بھی تھا اور زید بن حصین اور حرقوص بھی تھے۔اس کو جنگ نہروان کہتے ہیں اور وَقَعَةُ يَوْمِ النَّهْرِ بھی کہتے ہیں کیونکہ نہر کے کنارے یہ جنگ ہوئی تھی۔جب لڑائی ختم ہو گئی تو حضرت علی نے اپنے سپاہیوں سے کہا۔جاؤ اور ان مُردوں میں ایک ایسے شخص کی لاش تلاش کرو جس کے ہاتھ میں نقص ہے وہ گئے اور انہوں نے تلاش کی مگر ایسی کوئی لاش نہ ملی اور انہوں نے واپس آ کر کہا کہ ہمیں کوئی ایسی لاش نہیں ملی۔آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر تلاش کرو کہ ایسی لاش تمہیں مل کر رہے گی اور پھر گئے اور نا کام واپس آئے آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر تلاش کرو۔آخر جب تیسری بار وہ لوگ گئے تو انہیں ان مردوں میں ایک ایسے شخص کی لاش بھی مل گئی جس کے ایک ہاتھ میں نقص تھا اور گوشت کا ایک لوتھڑا اُس پر اُٹھا ہوا تھا۔آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا مجھے رسول کریم ﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ اے علی ! ایک دن کچھ لوگ تیرے خلاف بغاوت کریں گے اور اُس وقت تیرے مقابلہ میں جو لوگ ہوں گے ان میں ایک ایسا شخص بھی ہو گا جس کے ہاتھ میں نقص ہوگا۔پھر آپ نے فرمایا وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبُت - 1 خدا کی قسم! میں نے اس وقت جھوٹ نہیں بولا تھا جب میں نے تم سے کہا تھا کہ ایسی لاش تمہیں مل کر رہے گی اور نہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے جھوٹی بات کہی تھی یہ واقعہ ۳۷ھ میں ہوا۔اور ۳۸ھ میں کوفہ میں جو لوگ مخفی طور پر خوارج کے ساتھ تھے وہ نہروان کے بچے ہوئے لوگوں سے آملے اور نخیلہ میں آکر جمع ہو گئے۔( یہ جگہ شام اور کوفہ کے درمیان کوفہ کے قریب ہے ) حضرت علیؓ نے پھر عبداللہ بن عباس کو انہیں سمجھانے کیلئے بھیجا لیکن با وجود بار بار سمجھانے کے نہ مانے آخر حضرت علیؓ نے دوبارہ ان پر حملہ کیا اور ان میں سے اکثر کو قتل کر دیا۔اس کے بعد اسی ۳۸ھ میں خریت بن راشد من بنی ناجیہ نے جو شروع سے حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور آپ کا بڑا مقرب سمجھا جاتا تھا آپ کے خلاف خروج کیا اور آپ کی مجلس میں آکر کہنے لگا اے علی ! میں آپ کی بات آئندہ نہیں مانوں گا اور نہ آپ کے پیچھے نماز پڑھوں گا اور گل آپ سے جُدا ہو جاؤں گا کیونکہ تم کافر ہو چکے ہو حضرت علیؓ نے اسے بہتیرا سمجھایا مگر وہ نہیں مانا اور بار بار یہی کہتا رہا کہ آپ نے انسانوں سے فیصلہ کرایا ہے اس لئے آپ اب اس عہدہ کے قابل نہیں رہے۔اس پر حضرت علی نے جواب دیا کہ تیری ماں تجھ پر روئے اس صورت میں