انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 545

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر تھے اور ان ہی نے حضرت عثمان کو قتل کیا تھا۔حضرت علیؓ نے سمجھا یہ لوگ سخت مزاج ہیں یہی بہتر ہے کہ میں خود ان کی نگرانی کروں۔مگر ہؤا کیا ؟ ہوا یہ کہ جب آپ کے سپہ سالار اشتر نے ایک طرف سے اور حضرت عبد اللہ بن عباس نے دوسری طرف سے حملہ کیا تو یہ حملہ انہوں نے ایسی سختی سے کیا کہ شامی لشکر کے پاؤں اکھڑ گئے اور اُس کے سپاہی میدانِ جنگ سے بے تحاشہ بھاگنے لگے اور یوں معلوم ہونے لگا کہ چند گھنٹوں میں ہی شامی لشکر کو شکست فاش ہو جائے گی۔اس کے اکثر سپاہی یا تو مارے جائیں گے یا میدانِ جنگ سے بھاگ جائیں گے اور اس طرح حضرت علیؓ تمام عالم اسلام کے خلیفہ ہو جائیں گے۔مگر جس وقت حضرت معاویہ کے لشکر کو شکست ہونے لگی تو حضرت عمر و بن العاص نے حضرت معاویہ کو مشورہ دیا کہ اب مقابلہ کرنا فضول ہے۔اب صرف ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ ہمارا ہر سپاہی اپنے اپنے نیزہ پر قرآن اُٹھالے اور کہے کہ آؤ قرآن کریم سے فیصلہ کر لو۔جو قرآن فیصلہ کرے گا وہ ہمیں منظور ہو گا چنانچہ حضرت معاویہ نے حکم دیا اور ہر سپاہی نے اپنے نیزہ پر قرآن کریم بلند کر کے کہنا شروع کر دیا کہ اے مسلمانو ! آپس میں لڑ کر اسلام کو کیوں کمزور کرتے ہو آؤ اور قرآن کی رو سے فیصلہ کر لو جو قرآن فیصلہ کرے گا وہ ہمیں منظور ہوگا۔یہ دیکھتے ہی وہ لشکر جس کی کمان پر حضرت علی تھے اُس نے شور مچانا شروع کر دیا اور کہنا شروع کر دیا کہ اب جبکہ وہ قرآن کریم سے فیصلہ پر راضی ہیں تو ہمیں نہیں لڑنا چاہئے۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض شامیوں نے اِن کو فیوں کو جو حضرت علیؓ کے ماتحت تھے رشوت دی ہوئی تھی اور پہلے سے آپس میں ساز باز کر رکھی تھی کہ جب ہم قرآن بلند کریں تو تم لڑنے سے انکار کر دینا اور کہنا کہ اب لڑا ئی فضول ہے، قرآن سے اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ حضرت معاویہ نے اس قسم کا مشورہ دیا ہو۔میرا یہ خیال ہے کہ حضرت معاویہ کے لشکر کے بعض سرداروں نے اپنی طرف سے اس قسم کی ضرور کوششیں کی تھیں کہ وہ حضرت علی کے لشکر سے ایک حصہ کو ساتھ ملالیں چنانچہ جب انہوں نے قرآن کریم کو نیزوں پر بلند کر دیا تو وہ لشکر جس کی کمان حضرت علی کر رہے تھے اُس نے یکدم اپنی تلواریں رکھ دیں اور کہنے لگے لیجئے اب فیصلہ ہو گیا جب قرآن سے وہ اس جھگڑے کا فیصلہ ماننے کیلئے تیار ہیں تو لڑائی سے کیا فائدہ؟ حضرت علی نے کہا وہ پہلے کب کہا کرتے تھے کہ ہم قرآن نہیں مانتے وہ تو پہلے بھی یہی کہا کرتے تھے جو اب کہتے ہیں۔سوال تو یہ ہے کہ آیا قرآن کریم کی آیتوں کے وہ وہی معنی کرتے ہیں جو ہم کرتے ہیں اور اگر وہ ان معنوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں جو ہم کرتے ہیں تو اس جھگڑے کا فیصلہ کس طرح ہوسکتا