انوارالعلوم (جلد 14) — Page 17
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے لئے میں نے بتایا تھا کہ دوست سب سے پہلے یہ کریں کہ باہم لڑائی جھگڑے بند کر دیں۔میری اس تحریک کے نتیجہ میں سینکڑوں نے صلح کی لیکن سینکڑوں ایسے ہیں جو پھر لڑ نے لگ گئے اس لئے اس مطالبہ کے چھ ماہ بعد میں پھر آپ لوگوں کو اور جو یہاں موجود نہیں ان کو اخبار کے نمائندوں کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں کہ کوئی احمق ہی اُس وقت اپنے بھائی سے لڑسکتا ہے جب کوئی دشمن اس کے گھر پر حملہ آور ہوا ایسے نازک وقت میں اپنے بھائی کی گردن پکڑنے والا یا تو پاگل ہو سکتا ہے یا منافق۔ایسے شخص کے متعلق کسی مزید غور کی ضرورت نہیں ، وہ یقیناً یا تو پاگل ہے اور یا منافق اس لئے آج چھ ماہ کے بعد میں پھر ان لوگوں سے جنہوں نے اس عرصہ میں کوئی جھگڑا کیا ہو کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں، تو بہ کریں، تو بہ کریں ورنہ خدا کے رجسٹر سے ان کا نام کاٹ دیا جائے گا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔منہ کی احمدیت انہیں ہرگز ہر گز نہیں بچا سکے گی۔ایسے لوگ خدا کے دشمن ہیں، رسول کے دشمن ہیں ، قرآن کے دشمن ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمن ہیں، ایسے لوگ خون آلود گندے چیتھڑے کی طرح ہیں جو پھینک دیے جانے کے قابل ہے۔اس لئے ہر وہ شخص جس نے اپنے بھائی سے جنگ کی ہوئی ہے، میں اس سے کہتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ خدا کا غضب اس پر نازل ہو وہ ہمیشہ کے لئے صلح کرلے اور پھر بھی نہ لڑے۔ذرا غور تو کر وتم کن باتوں کے لئے لڑتے ہو، نہایت ہی ادنی اور ذلیل باتوں کے لئے۔پھر میں نے نصیحت کی تھی کہ اس زمانہ میں مالی قربانی کی بہت ضرورت ہے اس لئے سب مرد اور عورتیں اپنی زندگی کو سادہ بنائیں اور اخراجات کم کر دیں۔تا جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے لئے آواز آئے ، وہ تیار ہوں۔قربانی کے لئے صرف تمہاری نیت ہی فائدہ نہیں دے سکتی جب تک تمہارے پاس سامان بھی مہیا نہ ہوں۔ایک نابینا جہاد کا کتنا ہی شوق کیوں نہ رکھتا ہو اس میں شامل نہیں ہو سکتا، ایک غریب آدمی اگر زکوۃ دینے کی خواہش بھی کرے تو نہیں دے سکتا ، ایک مریض کی خواہش خواہ کس قدر زیادہ ہو روزے نہیں رکھ سکتا پس اگر سامان مہیا نہ ہوں تو ہم وہ قربانی کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے جس کی ہمیں خواہش ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک سادہ زندگی اختیار کرے تا کہ وقت آنے پر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکے اور اگر اس کا موقع نہ آئے تو بھی تم خدا تعالیٰ سے کہ سکو کہ ہم نے جو کچھ جمع کیا تھا اگر چہ وہ ملا تو ہماری اولاد کو ہی لیکن ہم نے اسے دین کے واسطے قربانی کی نیت سے جمع کیا تھا۔اسی لئے میں نے یہ تحریک کی تھی کہ دوست سادہ غذا کھائیں اور ایک ہی کھانے پر اکتفاء