انوارالعلوم (جلد 14) — Page 15
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے کیونکہ ہم نہ تو کوئی مجرم کرتے ہیں اور نہ کوئی سیاسی سازشیں بلکہ حکومت کے بارہ میں ہماری اور احرار کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک عورت کا ایک نواسہ تھا اور ایک پوتا۔بیٹی سے اسے چونکہ زیادہ محبت تھی ، اس لئے نواسے کو اس نے اُٹھایا ہوا تھا اور پوتے کو انگلی پکڑے لئے جارہی تھی۔وہ جب کہے دادی میں تھک گیا ہوں تو اسے ڈانٹ دے اور کہے ، سیدھی طرح چلتا ہے یا نہیں لیکن نواسے کو گود میں اٹھائے ہوئے مٹھائی کھلاتی جاتی تھی اور اگر کوئی ذرہ اُس سے گر جاتا تو پوتے سے کہہ دیتی کہ اُٹھا کر کھا لو۔اتنے میں سامنے سے کتا آ گیا۔تو نواسہ کہنے لگا گتے ! میری نانی کی ٹانگ کاٹ لے۔مگر پوتے نے کہا کتا آگے بڑھے تو سہی میں پتھر مار کر اُس کا سر نہ پھوڑ دوں۔یہی نظارہ یہاں نظر آ رہا ہے۔سلور جوبلی کا موقع آیا تو احراریوں نے کہا کہ کوئی سلور جوبلی کی تقریب میں شامل نہ ہو جو شامل ہونگے وہ غدار ہیں، دشمنانِ ملک و ملت ہیں مگر احمد یوں نے کہا اگر بعض حُکام ہمارے ساتھ عداوت رکھتے ہیں تو رکھیں بادشاہ ہمارا ہے ، ہم تو جشن جو بلی منائیں گے۔پس ہم تو حکومت کے افسروں سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔جاسوس ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں سوائے اس کے کہ اپنی عاقبت خراب کریں۔ہاں منافقین کا دوسرا گروہ زیادہ خطر ناک ہے اور ان میں سے بھی بالخصوص وہ جو براہ راست احرار سے نہیں ملتے بلکہ درمیان میں ایجنٹ رکھ کر ان کے ذریعہ مخالفوں سے ملتے ہیں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حالتوں میں درمیان میں تین تین ایجنٹ ہیں۔ایک شخص دوسرے سے بات کرتا ہے وہ آگے ایک اور سے کرتا ہے پھر وہ کسی غیر احمدی سے ملتا ہے اور پھر وہ آگے کسی غیر احمدی سے ملتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ احراریوں تک بات پہنچتی ہے۔مجھے ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم ہیں لیکن جیسا کہ میرا اصول ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو اصلاح کا کافی موقع دیا جائے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک شہادت شرعی موجود نہ ہو، میں شرعی سزا نہیں دیا کرتا۔منافقوں کا ہونا مسلمانوں سے ہی مخصوص نہیں ، مکہ کے کئی کا فر بھی رسول کریم ﷺ کو کفار کی خبریں دیا کرتے تھے۔اسی طرح اگر ہمارے منافق ہماری خبر میں دشمنوں تک پہنچاتے ہیں تو لاہور و امرتسر وغیرہ شہروں میں ان کے اندر بھی ایسے لوگ ہیں جو ان کی خبریں ہم تک پہنچاتے ہیں اور وہ ان کے لیڈر بھی ہیں جو تقریریں بھی کرتے ہیں۔مجھے ایک احراریوں کے جلسہ سے پندرہ دن پہلے اطلاع مل گئی تھی کہ تجویزیں کی جا رہی ہیں کہ قادیان میں ایک جلسہ کر کے اس میں پتھر وغیرہ پھینکے جائیں اور کہا جائے کہ احمدیوں نے ایسا کیا ہے اور