انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 6

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے ضرور ثابت ہوتا ہے کہ دشمن بھی اس کو تسلیم کرتا ہے کہ ہم اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔آج کوئی جائے اور اُس دوست سے جا کر کہے جس نے اس میدان اور اسی خطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں عیسائی مشنریوں کا قبضہ ہو جائے گا کہ بندہ خدا! اب تو احراری بھی کہتے ہیں۔کہ قادیان میں احمدیوں کی حکومت ہے۔گویا اس سے زیادہ یہاں احمدیوں کا قبضہ ہے۔جو ۱۹۱۴ ء میں تھا۔یہ کتنا ز بر دست نشان ہے اس امر کا کہ خدا کے کام کو کون روک سکتا ہے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام کہ لَیمَةٍ فَنَّهُمُ اور اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ کس طرح حرف بحرف پورا ہوا ہے۔یہ وہ کلام تھا جو خدا نے مجھ سے کیا اور میں نے اُسی وقت اسے شائع کر دیا اور آج بچہ بچہ اسے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔کون ہے جو ایسے مخالف حالات میں یہ پیشگوئیاں کر سکتا ہے۔اور مخالفوں نے مخالفت کے طوفان اٹھا کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں۔بہر حال وہ طوفان آیا اور چلا گیا اور اب ایک سال سے ایک اور طوفان اُٹھا ہوا ہے۔کچھ مخالف اس ارادہ سے کھڑے ہوئے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو کچل دیا جائے۔ان کی یہ امیدیں مجانین کے خیالات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نہ ہوتا کہ مخالف کے مقابلہ میں تدبیر سے کام لوتو میں ان سے صاف کہہ دیتا کہ جاؤ اور اپنا پورا زور لگا لو میں تمہارے مقابلہ میں ایک قدم بھی اُٹھا نا نہیں چاہتا لیکن ہمارے رب نے ان فتنوں میں ہماری آزمائش رکھی ہے اور کہا ہے کہ گو فتح میری طرف سے ہی ہوگی لیکن ہوگی انسانی کوشش کے نتیجہ میں۔پس اس قانون کے رو سے ہم مجبور ہیں کہ مقابلہ کریں اور سلسلہ کی خاطر اپنے نفوس اور اپنی جانیں اور اپنے اموال سب کچھ قربان کر دیں۔دشمن سے بڑھ کر اپنے اندر فدائیت پیدا کریں کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہمارے ایمانوں کا برتن چکنا چور ہو جائے گا۔قریباًے ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا کہ ۱۷۔اکتو بر ۱۹۳۴ء کی رات کو ایک مجسٹریٹ میرے پاس آیا اور ایک پر وانہ لایا کہ احراری یہاں جلسہ کرنا چاہتے ہیں اس موقع پر آپ باہر سے اپنے کچھ آدمی بلا نا چاہتے ہیں۔حکومت اپنے اختیارات کے رو سے حکم دیتی ہے کہ اس حکم نامہ کو منسوخ کر دو اور اس موقع پر باہر سے کسی کو نہ بلا ؤ، نہ کسی کی دعوت کرو اور نہ اپنے گھروں پر کسی کو ٹھہراؤ۔یہ نا پسندیدہ ، سراسر نا واجب اور خلاف قانون حکم ایسے موقع پر دیا گیا جب اس کی ضرورت نہ تھی اور اُسے دیا گیا جس نے کوئی خط نہ لکھا تھا اور ایسی حالت میں دیا گیا کہ حکومت