انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 416

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔۔میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اور کہا کہ آپ نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔میں نے کہا کہ میں نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سے مشورہ لیا ہے وہ عبد المنان کے متعلق تو کہتے ہیں کہ وہ چونکہ ملزم ہے اس کے بارہ میں کوئی کارروائی اس وقت کرنا ٹھیک نہیں۔اور دوسرے معاملہ کے متعلق میں نے تم کو کہا تھا کہ مصری صاحب سے کہو کہ جو الزام لگاتا ہے اس کا نام اور گواہ کا نام لکھیں تا تحقیق کی جائے مگر تمہاری طرف سے اطلاع نہیں آئی۔اس کے بعد میں نے خود تمہارے ابا کو لکھوایا کہ وہ ایسی اطلاع دیں تا کارروائی کی جائے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔امر اول کے متعلق اس نے کہا کہ میرے ابا نے مرزا عبدالحق صاحب سے پوچھا تھا۔یا کہا۔ملتانی صاحب نے مرزا عبدالحق صاحب سے پوچھا تھا، مگر انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔کارروائی ہوسکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔میں نے کہا کہ اس معاملہ میں شیخ بشیر احمد صاحب کو میں زیادہ تجربہ کار سمجھتا ہوں مگر چونکہ ایک دوسرے وکیل کی رائے خلاف ہے اور وہ بھی تجربہ کار ہے میں دوبارہ اس بارہ میں مشورہ لوں گا۔دوسرے امر کے متعلق اُس نے یہ کہا کہ میں نے اپنے ابا کو جا کر بات کہدی تھی اور پھر آپ کا خط بھی مل گیا تھا مگر میں نے اپنے ابا کو جواب دینے سے منع کر دیا تھا کہ یہ ان کا اپنا کام ہے کہ تحقیق کریں ہمارا کام نہیں ، اس لئے آپ جواب نہ دیں۔پھر کہا کہ یہ ایسی بات نہ تھی کہ اسے معاف کیا جاتا ، آپکو خود اسکی تحقیق کرنی چاہئے تھی۔اور آپ ایسا کیا کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ میں تم کو کہہ چکا ہوں کہ میرے پاس ایسی کوئی رپورٹ اب تک نہیں آئی اور جب تک مجھے اُس شخص کا نام معلوم نہ ہو جو ملزم ہے ، الزام کی حقیقت معلوم نہ ہو اور گواہ نہ معلوم ہو میں کیا کارروائی کر سکتا ہوں۔اور اب تو یہ سوال ہے کہ تم خود کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور دیدہ دانستہ میرے خط کا جواب نہیں دے سکتے پھر میں کیا کر سکتا ہوں۔نظام سلسلہ کی ہتک اس کے بعد حافظ بشیر احمد چلا گیا اور کچھ دنوں کے بعد مولوی ظفر محمد صاحب مجھے ملے اور کہا کہ مصری صاحب کو شکایت ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔میں نے انہیں سب قصہ سنایا اور انہیں کہا کہ مصری صاحب کو جا کر سنا دینا اور کہ دینا کہ جب آپ میرے خط کا جواب تک نہیں دیتے اور جب آپ الزام اور گواہ پیش نہیں کرتے تو میں نہ تحقیق کر سکتا ہوں اور نہ کرنے کو تیار ہوں۔آپ اپنا دعویٰ پیش کریں تو تحقیق کر سکتا ہوں۔اس کے جواب میں مولوی ظفر محمد صاحب ملے اور کہا کہ مصری صاحب مانتے ہیں کہ انہوں نے خط کا جواب نہیں دیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ