انوارالعلوم (جلد 14) — Page 406
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ طرف سے آدمی لے جاؤ اور اس کے مکان کے ارد گرد پہرہ لگا دو اور عبدالمنان جس وقت باہر آئے اسے کہو کہ تم کو ( حضرت ) خلیفہ اسیح بلاتے ہیں اور اسے میرے پاس لے آؤ اور اگر کوئی مزاحم ہو تو اسے بھی کہہ دو کہ خلیفہ امسیح کا حکم ہے کہ اسے وہاں لے جایا جائے۔چنانچہ انہوں نے وہاں کچھ آدمی مقرر کر دیئے اور میرا حکم بتا کر اسے پکڑ لائے۔اور بغیر میرے حکم کے وہ قانونا اسے نہیں پکڑ سکتے تھے۔کیونکہ میرے حکم کے بعد وہ اپنی مرضی سے ساتھ ہو گیا۔اس کے بغیر ا سے اگر وہ پکڑتے تو جبراً پکڑتے اور جبر آکسی کو پکڑ نا خود ایک جُرم ہے۔حتی کہ پولیس بھی خاص اختیارات یا وارنٹ کے بغیر کسی کو نہیں پکڑ سکتی۔مگر میاں فخر الدین صاحب کی دیانت داری دیکھیں کہ وہ لکھتے ہیں۔آخر جب ہم نے رات کو اُسے جا کر قابو کیا۔حالانکہ اگر میری مدد اور میرے حکم کے بغیر وہ اسے پکڑتے تو انہیں طاقت استعمال کرنی پڑتی اور وہ Wrongful Custody کے مجرم ہوتے اور خود سزا پاتے۔یہ میری روحانی طاقت ہی تھی کہ نہ اس کا باپ بولا اور نہ بھائی۔مگر ان لوگوں کی دیانتداری یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے اسے قابو کیا۔اگر وہ اتنے ہی دلیر ہیں تو کیوں اب اس شخص کو جا کر نہیں پکڑ لیتے جن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ سودیشی سے چور تھے اور انہوں نے انکی کھڑ کی توڑی تھی۔پس عبدالمنان کو میں نے اپنے حکم سے پکڑوایا اور میرے حکم کی وجہ سے اس نے اپنے قانونی حق کو ترک کیا۔وہ بے شک چور تھا مگر اس نے یہ شرافت دکھائی کہ جس شخص کی طرف میں منسوب ہوں اس کا حکم مجھے رو نہیں کرنا چاہئے۔مگر ان لوگوں کی شرافت یہ ہے کہ کہانی کو میرے خلاف زور دار بنانے کیلئے جو کام میں نے کیا اسے اپنی طرف منسوب کرتے جاتے ہیں۔خیر اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ لڑکا تو محفوظ کر کے بٹھا دیا گیا اور میں نے اطلاع ملنے پر شیخ محمود احمد صاحب ولد مگر می شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو بیان وغیرہ لینے کیلئے مقرر کیا۔( حضور نے شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو بلا شیخ محمود احمد صاحب کی شہادت کر ان کا حلفیہ بیان لیا ) انہوں نے بیان کیا کہ حضور نے مجھے فرمایا تھا کہ ناظر صاحب امور عامہ یہاں نہیں ہیں اس لئے تم بحیثیت محتسب جاؤ اور اسے پکڑ کر لے آؤ اور اس کا بیان لو۔چنانچہ میں گیا اور اس کے والد کو بلا کر حضور کے ارشاد سے مطلع کیا اور انہوں نے فوراً عبد المنان کو لا کر میرے حوالہ کر دیا۔چنانچہ میں اسے لے آیا اور اس کا بیان قلمبند کیا۔اس بیان میں اس نے تسلیم کر لیا کہ میں نے چوری کی تھی اور اس کی