انوارالعلوم (جلد 14) — Page 402
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ خیالات پھیلا رہے تھے اور جانتے تھے کہ میں خلاف شریعت اور خلاف آداب کام کرتا ہوں اس لئے جہاں بھی دو آدمی کھڑے باتیں کرتے دیکھتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ سی۔آئی۔ڈی کے ہیں اور میرے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔میاں فخر الدین صاحب نے اپنے بیان میں بعض گندے اتہام گندے اتہامات مستریوں کی طرح گفته آید در حدیث دیگراں کے طور پر بھی لگائے ہیں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ مصری صاحب بھی اسی سلسلہ میں تیاری کر رہے ہیں۔میں اس بارے میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ یہ ان کا کام ہے کہ اپنی قانونی اخلاقی اور مذہبی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے اپنے الزامات کو شائع کریں، میرا یہ کام نہیں۔میں اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود ان کو جواب دے۔اب میں مقدمہ کے حالات کو لیتا ہوں۔انہوں نے بیان کیا ہے کہ احسان علی وغیرہ سے امتیازی سلوک کیا گیا اور کہ میں نے مصری صاحب سے کہا تھا کہ احسان علی بھی اس چوری میں ملوث ہے۔اس کے متعلق میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔میرا تو ہمیشہ سے یہ طریق رہا ہے کہ جس کے متعلق کوئی مجرم ثابت ہو ،صرف اسی کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ وہ مجرم ہے کسی کو بلا وجہ صرف الزام سن کر مجرم نہیں قرار دیتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُن لوگوں کی طرف سے پہلے یہ رپورٹ ہوئی کہ شمس الدین جو ان کی بہن کا لڑکا ہے جن کے ہاں چوری ہوئی تھی ، چور ہے۔اور اس کے کچھ دن بعد ر پورٹ کی گئی کہ عبدالرحمن برا در احسان علی صاحب نے شمس الدین سے مل کر چوری کی ہے۔اس کے بعد ان کی طرف سے مجھے کئی دفعہ اطلاع ملی کہ اس چوری میں احسان علی صاحب ، عبد الرحمن اور ان کی والدہ بھی شامل ہیں۔لیکن میں ان سے یہی کہتا رہا ہوں کہ بلا ثبوت کسی کا نام نہ لیں۔ہاں جس کے بارہ میں دلیل ملے، اسے پیش کرتے جائیں۔ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس طرح بلا ثبت نام لیتے چلے جانے سے کسقد رفتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔شریعت اس قسم کی شہادت کو جائز نہیں قرار دیتی۔آخر جس کا نام لیا جائے اگر وہ ملوث نہ ہو اور بلا وجہ اسے بدنام کیا جائے تو کیا وہ عزت کی ہتک کا دعوی نہ کرے گا۔اور اگر وہ دعوئی نہ بھی کرے تو کیا اس کے دل میں غصہ نہ پیدا ہوگا۔پھر شریف، پردہ دار عورتوں کا نام بے احتیاطی سے لے دینا کس قدر خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔غرض میری طرف سے انہیں احتیاط کی نصیحت ہوتی رہی ہے اور یہ غلط ہے کہ میں نے کبھی بھی یہ کہا ہو کہ چوری میں احسان علی صاحب کا دخل تھا۔میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ چوری کے معلوم ہونے