انوارالعلوم (جلد 14) — Page 391
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کی جائے گی ، کیا کوئی کاروائی کی گئی۔ہم لکھ دیتے ہیں کوئی نہیں۔آخر میرے بار بار کہنے سے کہ یہ طریق اچھا نہیں۔ان لوگوں پر مقدمہ چلائیں اور ان کے خلاف ثبوت مہیا کریں، یہ جواب دیا کہ ہاں وقت آنے پر کریں گے۔ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ اسے تو چپکے سے قادیان سے نکال دیا ، کانوں کان خبر تک نہیں ہونے دی۔میں نے کہا کہ کسے ؟ تھوڑی دیر خاموش ہو کر کہا کہ مقبول کو۔میں نے کہا مقبول کون تھا ؟ کہا وہ ایک لڑکی تھی جو مولوی قطب الدین کے گھر رہتی تھی۔اس کے متعلق نہ میں نے پوچھا کہ کیا واقعہ تھا اور نہ اُس نے بتایا۔جوش میں بلند آواز سے جب باتیں کر رہے تھے تو میرے کہنے پر کہ آہستہ بات کریں ، اسی زور اور جوش میں کہا کہ دل میں جلن ہے، دکھ ہے اور یہ باتیں کھلے طور پر کہتا ہوں تا کہ سہی۔آئی۔ڈی سن لیں ( یہ کیا کہ فلاں کو فلاں ملا تھا اور فلاں فلاں اکٹھے باتیں کر رہے تھے۔بس یہی رپورٹیں ہوتی رہتی ہیں ) ہمیں دکھ ہے ہم کہتے ہیں۔( یہ باتیں مشاورت سے قبل ہی مکر می مولوی اللہ دتا صاحب سے ذکر کر دی تھیں۔) ۲۔اُسی وقت یا کسی اور وقت مکر می مولوی ظفر محمد صاحب کے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ اسے مبلغ بنادیا گیا ہے۔ہمارا تو خیال تھا کہ جو وہ مخفی کام کر رہے تھے اور سی آئی ڈی کے محکمہ میں خوب کام کیا تھا، اس پر انہیں کوئی ناظر بنا دیا جائے گا۔یہ کیا ہے کہ ان کو اس عہدہ سے ہٹا کر تنزل میں کر دیا۔۳۔پرسوں میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے لڑکوں کا حال پوچھنے گیا۔(ان کے دو بچے بیمار ہیں ) واپسی پر تھوڑی دُور تک میرے ساتھ آئے اور از خود ہی اپنی پرانی گفتگو متعلقہ خلافت وغیرہ چھیڑ دی۔خلاصہ یہ تھا۔انہوں نے بیان کیا کہ میں اس پر مطمئن ہوں کہ نبی کی جانشین اور خلیفہ دراصل جماعت ہوتی ہے جو نظام وہ چاہے قائم کر لے۔مثلاً اگر پیغامیوں والے خیال پر جماعت کی اکثریت ہو جاتی تو پھر وہی صحیح اسلامی مسلک ہوتا۔۲۔خلیفہ اللہ تعالیٰ سے فیض لینے کا واسطہ نہیں ہوتا۔۳۔خلیفہ کا تعلق محض نظام جماعت سے ہوتا ہے۔۴۔حدیث شریف میں صاف ہے کہ کفر بواح کی صورت میں خلیفہ معزول کیا جاسکتا ہے۔پس جماعت کی اکثریت ایسی صورت میں معزول کر سکتی ہے بلکہ روحانی خلیفہ تو ایسی حالت میں بدرجہ اولیٰ معز دل ہونا چاہئے۔حضرت امام حسنؓ نے خلافت چھوڑ دی اور یہ مقام مدح میں ان کا فعل شمار ہوتا ہے۔باغیوں کے مطالبہ پر کہ حضرت عثمان خلافت سے الگ