انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 383

انوار العلوم جلد ۱۴ صلى الله جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔۔میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ پیچھے دھکیلے گئے اور آخر صرف رسول کریم ﷺ اکیلے رہ گئے اور چاروں طرف سے آپ پر پتھر برسائے جارہے تھے حتی کہ خود کی کیلیں سر میں دھنس گئیں اور آپ بے ہوش کر زمین پر گر گئے اور دشمن نے خیال کر لیا کہ شاید آپ وفات پاگئے ہیں۔اور اس ہنگامہ میں جو صحابہؓ شہید ہوئے ، اُن کی لاشیں بھی آپ کے اوپر گر گئیں اور دشمن مطمئن ہو کر واپس چلا گیا کہ آپ شہید ہو چکے ہیں۔چنانچہ جب صحابہ جمع ہوئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو لاشوں کے ڈھیر میں سے نکالا اور دیکھا کہ آپ ابھی زندہ ہیں۔ایک صحابی نے پورے زور کے ساتھ خود کو کھینچ کر نکالا اور اس قدر زور لگانا پڑا کہ آپ کے دانت ٹوٹ گئے لے دیکھو کتنی چھوٹی سی ہدایت تھی کہ وہ دس آدمی اس درہ پر بہر حال کھڑے رہیں لیکن اس کو نظر انداز کر دینے سے کتنا خوفناک نتیجہ نکلا۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی خاص حفاظت کا وعدہ نہ ہوتا تو آنحضرت یہ بھی اُس دن شہید ہو جاتے۔اُس وقت سوائے ملائکہ کے کس نے آپ کی حفاظت کی۔جس طرح غار ثور کے منہ پر پہنچ جانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کفار کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ زیادہ تحقیقات کی ضرورت نہیں، اسی طرح اُحد کے موقع پر بھی ان کے دل میں یہ ڈال دیا کہ بس آپ فوت ہو چکے ہیں اب دیکھ بھال کی کیا ضرورت ہے۔اگر گفا راُس وقت جھکتے اور غور سے دیکھتے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ کمی کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔یہ انسان کا کام نہیں، انسانوں نے تو آپ کو مروا ہی دیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے زندہ رکھا۔اور یہ سب خطرہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ بعض لوگوں نے کہہ دیا کہ ہم اجتہادی طور پر اطاعت کیلئے تیار نہیں ہیں، یہ بالکل خلاف عقل بات ہے۔یہ لوگ منافق نہیں تھے مگر ان کی ذرا سی غفلت سے رسول کریم ﷺ کی ذات ایسے خطرہ میں پڑ گئی کہ آج اس کے حالات پڑھ کر بھی ایک مؤمن کا دل کانپ اُٹھتا ہے۔پس مؤمن ایک زنجیر کی کڑی ہوتا ہے اس کا اپنی ذات کا خیال رکھنا اور اس کو بھول جانا کہ وہ ایک زنجیر کی کڑی ہے، درست نہیں اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں۔مؤمن اکیلا نہیں ہوتا اس کے صرف یہ معنی نہیں کہ ظاہری طور پر بھی جماعت ضرور اس کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ جہاں بھی ہو اپنے آپ کو جماعت کے سلسلہ کی ایک کڑی سمجھتا ہے۔وہ اگر اکیلا بھی ہو تو ایسے کام کرتا رہتا ہے جو جماعت کی تقویت کا موجب ہوتے ہیں۔پس عام انسان کی ذمہ واری اور مؤمن کی ذمہ واری میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اسی وجہ سے