انوارالعلوم (جلد 14) — Page 300
انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب لئے حضرت ابو بکر نے قرآن کی یہ آیت سنکر کہا کہ یا رسول اللہ ! ہماری جانیں ، ہمارے ماں باپ کی جانیں ، ہمارے بیوی بچوں کی جانیں آپ کی جان پر قربان ہوں۔اب اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صحابہ میں سب سے بہتر قرآن کریم کو سمجھنے والے تھے۔رسول کریم ﷺ کی جب وفات ہوئی تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق باہر تھے۔الله حضرت عمر کو جب علم ہوا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے ہیں تو آپ میان سے تلوار نکال کر الله کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں تو میں تلوار سے سر اُڑا دوں گا رسول کریم فوت نہیں ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے تھے۔اور حضرت عمرؓ کی اس بات کا اثر تمام مسلمانوں پر ہوا۔ایک صحابی مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بہت گھبرائے۔وہ بہت سمجھدار تھے انہوں نے کہا دوڑ کر جاؤ اور حضرت ابو بکر کو خبر کر دو کہ مسلمان بگڑ رہے ہیں جلدی آئیں۔پس ابو بکر جو اتفاق سے باہر گئے ہوئے تھے فوراً پہنچے اور آپ کے پاس گئے اور کپڑا چہرے پر سے ہٹایا ، زیارت کی اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں خدا تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔ایک آ پکی موت اور دوسری قوم گمراہ ہو۔ہر چند ابو بکر کمزور اور نرم مزاج آدمی تھے حضرت عمرؓ جو تلوار لئے کھڑے تھے اُن کے پاس آئے اور کہا اے عمر! بیٹھ جاؤ لیکن حضرت عمرؓ جوش میں آ کر پھر کھڑے ہو جاتے۔حضرت ابو بکر اُن کے اس جوش کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور یہ آیت پڑھی۔مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - سے اے لوگو! محمد تو فوت ہو چکے ہیں۔جو کوئی محمد کو پوجتا ہے وہ سُن لے کہ خدا کبھی نہیں مرتا۔محمد خدا کے ایک رسول تھے اگر محمد فوت ہو جائیں تو کیا تم پھر جاؤ گے ؟ حضرت عمر کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ آیت سنی ، میری یہ حالت تھی کہ میری ٹانگیں مجھ کو کھڑا نہیں کر سکتی تھیں اور مجھ کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ قرآن کریم میں یہ آیت آج ہی نازل ہو رہی ہے۔۔دیکھو یہ ایک واقعہ ہے جو رسول کریم ﷺ کی زندگی کے معا بعد ظاہر ہو گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں۔اگر حضرت عمرؓ کا یہ عقیدہ ہوتا کہ حضرت عیسی آسمان پر ابھی تک زندہ ہیں تو وہ اپنی بات کی تائید میں یہ بات ضرور پیش کرتے۔کیا حضرت عمرؓ بھول گئے تھے؟ فرض کیا حضرت عمرؓ بھول گئے تو کوئی صحابی تو کہتے کہ عیسٹی نبی تو زندہ ہیں۔اب بتاؤ صحابہ سے بہتر کون دین جانتا تھا۔پنجابی کی ایک مثال ہے کہ گھروں میں آواں سیسے توں دیو یں۔“ سب سے بہتر جاننے والے صحابہؓ،